معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 174159

عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب ایک سخت گیر مزاج کے مالک ہیں۔ ہم ان سے بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔ اس لیے ان سے مزاج پرسی بھی ہم کم ہی کرتے ہیں۔ دوسرے معاملات پر بھی کم مشورہ کرتے ہیں۔ وہ اکثر پریشان سا رہتا ہے اور ہم سے تقریباً قطع تعلق رہتا ہے بات نہیں کرتا۔ مزاج ہی ایسا ہے۔ اب میں اکثر پریشان رہتا ہوں کہ کہیں اس وجہ سے میں والدین کی ناراضگی اور نافرمانی میں نا آ جاؤں۔ لہذا مناسب طریقہ سمجھا ہے کہ آخرت میں اس کا پکڑ میرے ذمے نہ ہو۔ ایسے حالات میں کیسا طرزِ عمل اختیار کر لو ۔

Published on: Nov 3, 2019

جواب # 174159

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:146-124/N=3/1441



اسلام میں چوں کہ والدین کا اولاد پر بڑا حق رکھا گیا ہے ؛ اس لیے اگر ماں باپ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک سخت گیر یا ترش مزاج ہو تب بھی اولاد کو والدین کے ساتھ اچھا برتاوٴ، ان کی خیرو خبر اور خدمت وغیرہ کرتے رہنا چاہیے۔ اور اگر کبھی وہ کچھ ڈانٹ ڈپٹ کریں یا ٹوکا ٹاکی کریں تو اس سے اولاد کو کبیدہ خاطر نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ خندہ پیشانی سے براداشت کرنا چاہیے۔ اور والدین کے مزاج کی وجہ سے ان کے ساتھ قطع تعلق جیسا برتاوٴ کرنا ہرگز ہرگز مناسب نہیں، اولاد کو ایسی حرکتوں سے بہت زیادہ بچنا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات