معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 174036

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ حضور کی حدیث "سچ بات کہو چاہے کڑوی لگے" کے مطا بق اگر کسی شخص کے والد ہمیشہ اداب دستر خوان کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو کیا ان کی اولاد حضور کی حدیث کے مطابق اپنے والد کو بلاخوف و جھجک دین کی حق بات کہہ سکتے ہیں؟ کیا مندرجہ بالا حدیث سے والدین یا کوئی اور رشتہ دار مستشنی ہیں ؟
برائے مہربانی تفصیلی جواب دین. شکریہ

Published on: Nov 2, 2019

جواب # 174036

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 204-140/B=02/1441



ادب کا درجہ فرض، واجب ،سنت ، مستحب سے بھی نیچا ہے۔ لہٰذا اس کے بتانے میں کوئی سختی نہ ہونی چاہئے۔ آپ اس انداز سے ایک آدھ دفعہ کہہ دیجئے کہ میں نے علماء سے دسترخوان کا یہ ادب سنا ہے۔ اس کے بعد دوبارہ کچھ نہ کہیں۔ آپ اس ادب پر برابر عمل کرتے رہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو دیکھ کر وہ بھی کرنے لگیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات