India

سوال # 173230

اللہ کرے حضرات مفتیان بخیر ہوں.! پیش نظر مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک مدرسہ کے مہتمم صاحب کے پاس بڑے جانور میں قربانی کا حصہ لیا، اب جب گوشت کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو مہتمم صاحب کا کہنا یہ ہے کہ میں ہر حصہ دار کو صرف 15-16 کلو گوشت ہی دوں گا، خواہ جانور میں کتنا ہی گوشت نکلے، مزید استفسار پر انھوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جس نے 2500 روپئے کا حصہ لیا ہے اسے ہم 12 کلو گوشت دیں گے، اور جس نے 3000 روپئے کا حصہ لیا ہے اسے ہم 15 کلو گوشت دیں گے، اور جس نے 3500 روپئے کا حصہ لیا ہے اسے ہم 18 کلو گوشت دیں گے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ گوشت کی تقسیم کے وقت ظاہر ہے ہر حصہ دار کو متعین طور پر اس کا ساتواں حصہ نہیں ملے گا، تو کیا قربانی درست سمجھی جائے گی؟ دوسری بات اگر قربانی درست ہو بھی جاتی ہے تو کیا مہتمم مذکور کا جبراً اس طرح گوشت تقسیم کرنا جائز ہے جبکہ حصہ لینے والا یہ کہ رہا ہو کہ مجھے تو تول کر میرا ساتواں حصہ چاہیے.؟ از راہ مہربانی ان دونوں سوالوں کے مدلل جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں، اگر جواب شام تک مل جائیں تو بڑا کرم ہوگا، کیونکہ شام تک اس جھگڑے کو نمٹانا ہے۔ جزاکم اللہ خیرا

Published on: Nov 21, 2019

جواب # 173230

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:49-43T/B=3/1441



مدارس وغیرہ میں جو لوگ قربانی کرانے کی ذمہ داری لیتے ہیں وہ لوگوں کے وکیل ہوتے ہیں اور وکیل کو موٴکل کی منشا کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے؛ اس لیے اگر کوئی اپنے پورے گوشت کا مطالبہ کرتا ہے تو تقسیم کرکے اس کا پورا گوشت دینا ضروری ہے، صورت مسئولہ میں جو شکل ذکر کی گئی ہے کہ مہتمم صاحب یہ کہتے ہیں کہ جس نے 2500 کا حصہ لیا ہے اسے بارہ کلو گوشت دیں گے اور جس نے تین ہزار کا حصہ لیا ہے اسے پندرہ کلو گوشت دیں گے، مہتمم صاحب کا اس طرح جبر کرنا درست نہیں، رہی بات قربانی کی تو پورا گوشت نہ ملنے کی وجہ سے قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، قربانی صحیح ہوگئی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات