معاملات - حدود و قصاص

India

سوال # 173819

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مندرجہ مسئلے کے بارے میں عبداللہ کی شادی شعبان میں ہوئی، لیکن رمضان میں انہوں نے اپنی بیوی سے روزے کی حالت میں جماع کرلیا پھر انہوں نے دن میں ہی دو دن اور جماع کرلیا جان بوجھ کر بیوی کے انکار کے باوجود ان دو دنوں کے بعد اب معلوم ہوا کہ اس نے پہلی مرتبہ جو جماع کیا تھا وہ بھی روزے کی حالت میں کیا تھا. پھر ایک سال کے بعد رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرنا چاہا تو بیوی نے اسے بتایا کہ روزہ ٹوٹ جائے گا پھر بھی اس نے اپنی بیوی سے جماع کرلیا، اس مسئلے کی قرآن و احادیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ عبداللہ جو روزے کی حالت میں جماع کیا ہے اس میں دونوں کے اوپر کفارہ واجب ہو گا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو کتنا اور اس کی صورت کیا ہو گی؟ اگر بشکل روپیہ ادا کرنا چاہیے تو آج کل کے اعتبار سے کتنا ادا کرنا ہوگا کیا وہ رقم ایک ہی آدمی کو دے سکتا ہے ؟

Published on: Oct 27, 2019

جواب # 173819

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:104-91/N=2/1441



(۱): ایک رمضان میں جان بوجھ کر جماع کرکے رمضان کے جو روزے توڑے گئے، اُن کی وجہ سے تو صرف ایک کفارہ واجب ہوگا اور دوسرے رمضان میں جان بوجھ کر جماع کرکے رمضان کے جو توڑے گئے، ان کی وجہ سے الگ کفارہ واجب ہوگا، الگ الگ رمضانوں میں جماع کے باب میں ایک ہی کفارہ کافی نہیں ہوگا (حاشیہ امداد الفتاوی، ۲: ۱۶۶از مولانا ظفر عثمانی صاحب، احسن الفتاوی، ۴: ۴۳۴، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید کراچی، وغیرہ)۔



ولو تکرر فطرہ ولم یکفر للأول یکفیہ واحدة ولو في رمضانین عند محمد، وعلیہ الاعتماد، بزازیة ومجتبی وغیرھما، واختار بعضھم للفتوی أن الفطر بغیر الجماع تداخل وإلا لا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، ۳: ۳۹۱، ۳۹۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وعلیہ الاعتماد“: نقلہ في البحر عن الأسرار، ونقل قبلہ عن الجوھرة: لو جامع في رمضانین فعلیہ کفارتان وإن لم یکفر للأولی في ظاھر الروایة، وھو الصحیح اھ، فقد اختلف الترجیح کما تری ویتقوی الثاني بأنہ ظاھر الراویة (رد المحتار)۔



(۲): عبد اللہ اور اس کی بیوی نے جتنے رمضان کے روزے جان بوجھ کر جماع کرکے توڑے ہیں، دونوں پر اُتنے کفارے واجب ہوں گے، یعنی: ۲/ رمضان کی صورت میں ۲/ کفارے اور ۳/ رمضان کی صورت میں ۳/ کفارے ۔



(۳): ایک روزے کا کفارہ یہ ہے کہ ۲/ مہینے مسلسل ۶۰/ روزے رکھے جائیں۔



وإن جامع المکلف آدمیاً مشتھی في رمضان أداء…… أو جومع أو توارت الحشفة في أحد السبیلین أنزل أو لا أو أکل أو شرب غذاء …أو دواء … …عمداً …قضی…وکفر …ککفارة المظاہر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ۳: ۳۸۵-۳۹۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



(۴): روزوں کی قدرت واستطاعت کی صورت میں فدیہ کافی نہیں ہوگا؛ بلکہ روزے رکھنا ہی ضروری ہوگا۔ اور اگر گرمی میں ایک ساتھ ۶۰/ روزے رکھنا مشکل ہو تو سردے کے موسم میں ۶۰/ روزے رکھ لیے جائیں ۔



فإن عجز عن الصوم لمرض لا یرجی بروٴہ أو کبر أطعم أي: ملک ستین مسکیناً …… کالفطرة قدراً ومصرفاً أو قیمة ذلک من غیر المنصوص……وإن أراد الإباحة فغداھم وعشاھم أو غداھم وعشاھم قیمة العشاء أو عکسہ … وأشبعھم جاز (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الطلاق، باب الظھار، فصل فی الکفارة، ۵: ۱۴۳، ۱۴۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات