معاملات - حدود و قصاص

Pakistan

سوال # 173326

مجھ پر تین چار روزوں کا کفارہ ہے جو مجھے ساٹھ ساٹھ مسلسل روزے رکھنے ہیں۔ حضرت، میرا روزانہ شیڈول ایسا ہے کہ میں مسلسل روزے نہیں رکھ سکتا، میری عمر ابھی تیس سال ہے ، میں دو نوکری کرتاہوں ، صبح کے وقت فکس نوکری اور شام کے وقت یونیورسٹی میں پڑھا تا ہوں، گھر جانے کے بعد اتنی بھی کبھی ہمت نہیں ہوپاتی کہ جماعت سے نماز بھی ادا کرسکوں۔ میں رمضان کے علاوہ نفل روزے بھی کبھی نہیں رکھ پارہا ہوں تو ساٹھ مسلسل روزے وہ بھی تین سے چار مرتبہ رکھنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔ حضرت، زندگی کا بھروسہ نہیں، میں اللہ پاک کو ناراض نہیں کرنا چاہتا،کیا میرے روزے کے کفارے کی کوئی اور صورت ہے؟

Published on: Nov 3, 2019

جواب # 173326

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:78-19T/SD2/1441



 اگر آپ کے اندر سال کے چھوٹے ایام میں بھی مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنے کی طاقت نہیں ہے، تو پھر کفارے کے طور پر دونوں وقت ۶۰/ مسکینوں کو پیٹ بھر کھانا کھلانا ہوگا ( کھانے کی قیمت بھی دی جاسکتی ) واضح رہے کہ اگر ایک ہی رمضان کے متعدد روزے جماع یا قصدا کھانے پینے سے توڑے ہیں، تو متعدد روزوں کی طرف سے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا اوراگر متعدد رمضان کے روزے بشکل جماع توڑے ہیں تو پھر ہرسال کے رمضان کی طرف سے الگ الگ کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔



والکفارة تحریر رقبة فإن عجز عنہ صام شہرین متتابعین لیس فیہا یوم عید ولا أیام التشریق فإن لم یستطع الصوم أطعم ستین مسکنا والشرط أن یکون یغدیہم ویعشہیم غذاء وعشاء مشبعین (نور الإیضاح مع مراقی الفلاح) ولو تکرر فطرہ ولم یکفر للأول یکفیہ واحدة ولو فی رمضانین عند محمد رحمہ اللہ وعلیہ الاعتماد الخ وفی الشامی: قولہ وعلیہ الاعتماد ونقلہ فی البحر عن الأسرار ونقل قبلہ عن الجوہرة لو جامع فی رمضانین فعلیہ کفارتان وإن لم یکفر للأولی فی ظاہر الروایة وہو الصحیح. اہ. قلت: فقد اختلف الترجیح کما تری ویقوی الثانی بأنہ ظاہر الروایة (رد المحتار) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات