عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 177552

(۱) مفتی صاحب، مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے، میری عمر ۲۸ سال ہے، ۱۲ سال کی عمر سے مشت زنی میں مبتلا رہا ہوں، میں جب میں مشت زنی کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اب مشت زنی نہیں کروں گا پھر قسم ٹوٹ جاتی ہے اور مشت زنی ہوجاتی ہے، اس طرح سے ۱۶ سال سے ہر روز کم سے کم تین یا پانچ قسمیں توڑی ہوں گی، ابھی پندرہ دن ہوئے ہیں مشت اورقسم کھانا چھوڑے ہوئے، اب میں آئیڈیا لگا رہاہوں تو میں نے کم سے کم 18000 قسمیں توڑی ہوں گی، آپ ہی بتائیں اتنی قسموں کے لیے کسی کو کھانا کیسا کھلا سکتاہوں؟ کروڑوں میں حساب بیٹھ رہاہے اور روزے رکھوں گا تو زندگی کم پڑ جائے گی ، کیا کوئی ایسا راستہ نہیں ہے کہ میں آئندہ قسم نہیں کھاؤں گا اور ان کفارہ کو بھی اللہ معاف کرے ، اللہ تو سبھی گناہوں کو معاف کردیتاہے۔
(۲) ہر بار میں نے اللہ کی قسم اس طرح بھی کھائی کہ اللہ کی قسم اگر مشت زنی کی تو اپنی کسی رشتہ کے ساتھ کسی شخص سے زنا کروں گا، میرے اوپر قسموں کا پہلے ہی اتنا دباؤ ہے تو کیا مجھے زنا کرنا ہوگا؟
(۳) اگر زنا نہ کروں اور کفارہ بھی ادا نہ کروں صرف اللہ سے معافی مانگ لوں دل سے اور نماز قرآن پڑھوں تو کیا سارے گناہ معاف ہوجائیں گے بنا کفارہ ادا کئے ؟ براہ کرم، میری رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Apr 9, 2020

جواب # 177552

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 695-134T/D=08/1441



مشہور اور محتاط قول کے مطابق جتنی قسمیں ٹوٹی ہیں ہر ہر قسم کی طرف سے ایک ایک کفارہ دینا واجب ہوگا یعنی ٹوٹی ہوئی قسموں کی تعداد کے برابر کفارے واجب ہوں گے۔ لیکن ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس سے آسان اور سہولت پر مبنی ہے یعنی تمام قسموں کی طرف سے صرف ایک کفارہ دے دینا کافی ہوگا۔ اگرچہ یہ قول راجح نہیں ہے لیکن جس ضیق اور تنگی پر مبنی آپ کا معاملہ ہے اگر آپ اس پر عمل کرلیں تو گنجائش ہے، امید ہے کہ اللہ تعالی معاف فرمادیں۔



قال العلامہ الحصکفي رحمہ اللہ وفی البحر عن الخلاصة والتجرید وتتعدد الکفارة لتعدد الیمین، والمجلس والمجالس سواء ۔ وقال العلامہ وبن عابدین رحمہ اللہ وفی البغیة کفارات الأیمان إذا کثرت تداخلت ویخرج باکفارة الواحدة عن عہدة الجمیع ۔ وقال شہاب الأئمة: ہذا قول محمد رحمہ اللہ قال صاحب الأصل: ہو المختار عندی (الدر مع الرد: ۳/۵۷) ۔



آپ جس گناہ کے اندر مبتلا رہے اس سے پکی سچی توبہ کریں اور اس گناہ کو بالکل ترک کردیں نماز تلاوت کا اہتمام کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات