عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 174803

میں نے اپنے ایک دوست کو میسیج میں لکھا کہ خدا کی قسم جب تک آپ خود اس بات کا اقرار نہیں کروگے اس وقت تک میں آپ سے بات نہیں کروں گا سوائے ہمارے مدرسہ کی بات کے اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس بات کو مدنظر رکھ کر میں نے قسم والا میسیج کیا ہے وہ بات نہ ہونے تک میں بات اگر کردیا تو میں حانث ہوجاؤں گا یا نہیں اور جو قسم والے الفاظ میں نے میسیج میں لکھا ہوں زبان سے نہیں کہا تو اس کا جواب کیا ہوگا؟

Published on: Dec 4, 2019

جواب # 174803

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:328-269/L=4/1441



صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنے دوست کو میسیج لکھ کر جس بات کے اقرار نہ کرنے پر قسم کھائی ہے وہ قسم منعقد ہوگئی ؛کیونکہ جس طرح زبان سے تکلم کرنے سے قسم منعقد ہوتی ہے اسی طرح میسیج وغیرہ لکھنے سے بھی منعقد ہوجاتی ہے ؛لہذا اگر آپ نے ان کے اقرار کرنے سے پہلے ان سے مدرسے کی گفتگو کے علاوہ کوئی اور گفتگو کرلی تو پھر آپ حانث ہوجائیں گے اور آپ پر قسم کا کفارہ دینا لازم ہوجائے گا ۔



قال فی البحر الرائق:ولو قال لا أبشرہ فکتب إلیہ حنث.(البحر الرائق شرح کنز الدقائق 4/ 362،الناشر: دار الکتاب الإسلامی)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات