عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 174240

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: کہ طلبہ کی لاپرواہی کی وجہ سے ایک استاذ نے ایک جماعت میں طلبہ سے کہا کہ سب اپنی ڈائری نکالو، اور کہا کہ قسم نامہ لکھو، پھر استاذ صاحب نے خود یہ کلمات تلقین کرکے لکھوائے جو مندرجہ ذیل ہیں: "اللہ کی قسم! فلاں استاذ صاحب کے گھنٹے میں جو بھی کام دیا جائے گا، چاہے وہ حفظ یاد کرنا ہو، یا لغات لکھنا، یا جملے لکھنا ہو، یا کوئی بھی کام ہو ،اس کو ہم مقررہ وقت سے پہلے روزانہ اخیر سال تک پورا کریں گے؛ الا یہ کہ واقعی کوئی عذر ہو۔" اس کے بعد استاذ نے سب طلبہ کی تحریر پر دستخط بھی کیے، نیز استاذ صاحب نے زبان سے پڑھنے کے لیے کہا، تو کچھ طلبہ نے پڑھا، کچھ نے نہیں پڑھا؛ باقی لکھا سب نے ہی اور دستخط بھی سب کی تحاریر پر ہوے ہیں: اب سوال یہ ہے: -۱ کیا تلقین سے قسم معتبر ہوجاتی ہے، جب کہ مخاطب الفاظ کو سمجھ بھی رہے ہوں؟ -۲ صرف تحریری قسم دلانا کیا شرعا معتبر ہے، یا زبان سے ادائیگی ضروری ہے، استاذ کے دستخط سے کیا حکم ہوگا؟ -۳ اگر یہ قسم شرعا معتبر ہے، تو اگر کسی طالب علم نے کام پورا نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ حانث ہوگیا تو کفارہ واجب ہوا؛ اب چوں کہ قسم روزانہ کام پورا کرنے کی کھلائی ہے تو اگر پھر کبھی دوسری مرتبہ وہ لاپرواہی کرکے اور وقت پر کام نہ کرے تو وہ دوبارہ حانث ہوگا یا نہیں؟ جیساکہ روزانہ کام پورا کرنے کی قسم کھلانا قسم کے تکرار کا مقتضی ہے؟ -۴ ایک طالب علم نے "کروں گا" کے بجائے لکھا ہے: "نہیں کروں گا" بعد میں استاذ صاحب نے اس سے مٹواکر پھر وہی لکھوایا تو اس طالب علم کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا دونوں (نفی و اثبات) قسم ہوں گی یا نہیں؟ شرعی حکم مع دلائل واضح کریں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

Published on: Nov 24, 2019

جواب # 174240

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:209-47T/L=3/1441



اصل تو یہ ہے کہ قسم زبانی الفاظ سے منعقد ہوتی ہے ؛البتہ تحریر بھی زبان کے قائم مقام ہوتی ہے پس صورتِ مذکورہ میں جنھوں نے استاذ کی تلقین سے قسم نامہ لکھا ان تمام طلبہ کی قسم منعقد ہوگئی اور جس طالب علم نے نہیں کروں گا لکھا تھا چونکہ استاذ نے اس کے ذریعہ دوبارہ لکھوایا تو اس کی قسم بھی منعقد ہوگئی۔



(۲) قسم پوری کرنا واجب ہے اگر کسی طالب نے کام پورا نہیں کیا تو اس پر کفارہ واجب ہوگا اور ایک مرتبہ قسم توڑنے سے قسم ختم ہوجائے گی اور پھر کام پورا نہ کرنے پرکفارہ واجب نہ ہوگا ۔



قال فی الہدایة: قال: " والقاصد فی الیمین والمکرہ والناسی سواء " حتی تجب الکفارة لقولہ علیہ الصلاة والسلام ثلاث جدہن جد وہزلہن جد النکاح والطلاق والیمین .(الہدایة فی شرح بدایة المبتدی 2/ 317،الناشر: دار احیاء التراث العربی - بیروت - لبنان) وکذا التکلم بالطلاق لیس بشرط فیقع الطلاق بالکتابة المستبینة وبالإشارة المفہومة من الأخرس لأن الکتابة المستبینة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفہومة تقوم مقام العبارة.(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع 3/ 100،الناشر: دار الکتب العلمیة)(وفیہا) کلہا (تنحل) أی تبطل (الیمین) ببطلان التعلیق (إذا وجد الشرط مرة إلا فی کلما(الدر المختار)وفی رد المحتار: (قولہ أی تبطل الیمین) أی تنتہی وتتم، وإذا تمت حنث فلا یتصور الحنث ثانیا إلا بیمین أخری لأنہا غیر مقتضیة للعموم والتکرار لغة نہر.( الدر المختار مع رد المحتار: ،ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات