معاشرت - نکاح

India

سوال # 177051

زیدکارشتہ ھندہ کے ساتھ ایک سال قبل ہواتھا اب کسی وجہ سے منگنی ختم ہوگئی، منگنی کے موقعہ پرلڑکے والوں نے جو کچھ لڑکی کو دیا تھا جیسے زیور کپڑے وغیرہ کیاواپس کرناپڑے گایانہیں؟ لڑکی اورلڑکے کی طرف سے جولین دین ہواتھا منگنی ختم ہونے کے بعد اس کاکیاحکم ہے؟ اورلڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کے رشتہ داروں کوکپڑے پیسے وغیرہ دیے جاتے ہیں رشتہ ختم ہونے پر ان تمام کاکیاحکم ہے؟

Published on: Feb 16, 2020

جواب # 177051

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:355-141/sn=6/1441



منگنی کے موقع پر یا بعد میں کسی وقت اگر کوئی چیزلڑکی کو بہ طور مہر دی گئی تھی تو زید کے گھروالے اسے واپس لے سکتے ہیں، اگر وہ چیز باقی نہیں ہے ؛ بلکہ استعمال ہو کر ختم ہوگئی ہے تو اس کا بدل لے سکتے ہیں ؛ رہی وہ چیزیں جو بہ طور ہبہ دی گئی ہیں تو ان میں سے جو استعمال ہوکر ختم ہوگئیں وہ تو ختم ہوگئیں ؛ البتہ جو چیزیں باقی ہوں انھیں دونوں فریق باہمی تراضی سے ایک دوسرے سے واپس لے سکتے ہیں ۔ اگر کوئی فریق دینے پر آمادہ نہ ہو تو دوسرا جبرنہیں کرسکتا ۔



(خطب بنت رجل وبعث إلیہا أشیاء ولم یزوّجہا أبوہا فما بعث للمہر یسترد عینہ قائما) فقط وإن تغیر بالاستعمال (أو قیمتہ ہالکا) لأنہ معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد (وکذا) یسترد (ما بعث ہدیة وہو قائم دون الہالک والمستہلک) لأنہ فی معنی الہبة....(قولہ ولم یزوجہا أبوہا) مثلہ ما إذا أبت وہی کبیرة ط (قولہ فما بعث للمہر) أی مما اتفقا علی أنہ من المہر أو کان القول لہ فیہ علی ما تقدم بیانہ (قولہ فقط) قید فی عینہ لا فی قائما، واحترز بہ عما إذا تغیر بالاستعمال کما أشار إلیہ الشارح. قال فی المنح لأنہ مسلط علیہ من قبل المالک فلا یلزم فی مقابلة ما انتقص باستعمالہ شیء ح (قولہ أو قیمتہ) الأولی أو بدلا لہ لیشمل المسمی (قولہ لأنہ فی معنی الہبة) أی والہلاک والاستہلاک مانع من الرجوع بہا، وعبارة البزازیة لأنہ ہبة اہ ومقتضاہ أنہ یشترط فی استرداد القائم القضاء أو الرضا، وکذا یشترط عدم ما یمنع من الرجوع، کما لو کان ثوبا فصبغتہ أو خالطتہ، ولم أر من صرح بشیء من غیر ذلک فلیرجع إلخ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 304،باب المہر، ط: مکتبة زکریا، دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات