معاشرت - نکاح

India

سوال # 176769

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کی شادی کی بات چل رہی ہے زید کا کہنا ہے کہ "میں شادی اسی وقت کروں گا جبکہ سارے مروجہ رسومات ترک کرکردیئے جائیں"( جیساکہ رواج ہے فرنیچر، برتن، بارات وغیرہ)۔ اس پہ گھروالوں کا اتفاق نہیں ہو رہا ہے اور اس بات پہ لڑکی والے بھی راضی نہیں ہورہے ہیں۔ لڑکے والے کا کہنا ہے کہ میں لڑکی والے سے صرف بول سکتا ہوں کہ "مجھے کچھ نہیں چاہیے " اور لڑکی والے کا کہنا ہے کہ" میں سب چیز اپنی لڑکی کو دے رہا ہوں" اور انہی سب باتوں کی وجہ سے کئی رشتے کٹ بھی گئے ہیں۔ زید بہت پریشان ہوگیا ہے کہ مروجہ رسومات ترک گئے بغیر اسکی شادی نہیں ہوپا رہی ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہیکہ زید مع رسومات شادی کرے ؟ یا نہیں: تو کیا پوری زندگی کوارہ ہی رہے ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

Published on: Feb 1, 2020

جواب # 176769

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 657-506/H=06/1441



مقامی علماءِ صالحین متقین اہل فتویٰ حضرات سے ہدایات حاصل کرلیں اور تمام حالات صحیح صاف واضح انداز پر بتلاکر مشورہ کرلیں ان حضرات کی ہدایات و مشورہ کی روشنی میں نکاح کرلیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات