معاشرت - نکاح

India

سوال # 176221

کیا فرماتے مفتیان کرام مندرجہ مسئلہ کے بارے میں: اگر کوئی لڑکی اس بات پر اڑ جائے کہ میں شادی اسی سے کروں گی ورنہ میں مر جاؤں گی اور والدین کو اس بات کا خوف بھی ہے کہ وہ اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈال دے تو والدین کیا کرے ؟ لیکن گذشتہ زمانہ میں وہ لڑکی اس لڑے کی ماں سے دودھ بھی پی لی ہے تو اب کیا کرے ؟ کیا مندرجہ بالا عذر عذر شرعی مانا جائے گا؟ برائے کرم جواب ارسال فرمائیں۔

Published on: Feb 6, 2020

جواب # 176221

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 448-369/D=06/1441



اگر لڑکی کے لئے لڑکے کی ماں کا مدت رضاعت میں دودھ پینا یقینی طور پر ثابت ہے تو یہ لڑکی لڑکے رضاعی بھائی بہن ہوگئے جن کا آپس میں نکاح کرنا حرام ہے۔ یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب (بخاری) لڑکی کا اس کے خلاف ضد کرنا اور نکاح کرنے پر اصرار کرنا بے جا ہے، اسے سمجھا دیا جائے اور حکم خداوندی کی عظمت اور آخرت کے جوابدہی کی اہمیت بتلائی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات