معاشرت - نکاح

USA

سوال # 176214

حالت حیض میں میر ے شوہر ملاعبت کے لیے اصرار کرتے ہیں اور میرے سینے پر انزال نکالتے ہیں اور کبھی ران پر بھی؟میں گناہ صغیرہ بھی نہیں کرنا چاہتی ہوں اگر یہ گناہ ہے ؟کیا یہ گناہ صغیرہ ہے؟ اگر میرے شوہر ایسا کرتے ہیں تو کیا میں مظلوم ہوں؟اور میں اس ظلم کی شکار نہیں ہونا چاہتی ہوں، کیوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم سے بچایا ہے۔

Published on: Jan 21, 2020

جواب # 176214

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:509-130T/sn=5/1441



حیض کے دوران ناف سے گھٹنے تک کے حصے سے بلا حائل استمتاع یعنی مس کرنا دیکھنا شرعا جائز نہیں ہے ؛ البتہ بدن کے باقی حصے ( پیٹ پیٹھ سینہ اور ہاتھ وغیرہ) سے استمتاع اور ملاعبت حائل کے ساتھ یا بغیر حائل کے ہر طرح جائز ہے ، مذکورہ بالا ممنوع حصے سے بچ کر اگر آپ کا شوہر آپ کے ساتھ ملاعبہ اوراستمتاع کرنا چاہے تو آپ کو منع نہ کرنا چاہیے ، یہ گناہ کی بات نہیں ہے ؛ ہاں اگر وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصے سے بلا حائل استمتاع کرنا چاہے تو آپ اس کی اجازت ہرگز نہ دیں ، یہ جائز نہیں ہے ۔ شہوت کے غلبہ کے وقت آپ اپنے ہاتھ سے شوہر کا انزال کراسکتی ہیں ، شرعا اس کی بھی گنجائش ہے ۔



یجوز لہ أن یلمس بجمیع بدنہ حتی بذکرہ جمیع بدنہا إلا ما تحت الإزار فکذا ہی لہا أن تلمس بجمیع بدنہا إلا ما تحت الإزار جمیع بدنہ حتی ذکرہ، وإلا فلو کان لمسہا لذکرہ حراما لحرم علیہا تمکینہ من لمسہ بذکرہ لما عدا ما تحت الإزار منہا، وإذا حرم علیہ مباشرة ما تحت إزارہا حرم علیہا تمکینہ منہا فیحرم علیہا مباشرتہا لہ بما تحت إزارہا بالأولی (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) ۱/۴۸۷، ط: زکریا دیوبند)



ویجوز أن یستمنی بید زوجتہ وخادمتہ اہ وسیذکر الشارح فی الحدود عن الجوہرة أنہ یکرہ ولعل المراد بہ کراہة التنزیہ فلا ینافی قول المعراج یجوز تأمل (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) ۳/۳۷۱، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في حکم الاستمناء بالکف، ط: مکتبة زکریا، دیوبند)



فی الجوہرة: الاستمناء حرام، وفیہ التعزیر. ولو مکن امرأتہ أو أمتہ من العبث بذکرہ فأنزل کرہ ولا شیء علیہ وقدمنا عن المعراج فی باب مفسدات الصوم: یجوز أن یستمنی بید زوجتہ أو خادمتہ، وانظر ما کتبناہ ہناک (قولہ ولا شيء علیہ) أي من حد وتعزیر، وکذا من إثم علی ما قلناہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) ۴/۲۷، کتاب الحدود، باب الوطئ الذي یوجب والذی لا یوجبہ، ط: مکتبة زکریا دیوبند) نیز دیکھیں: احسن الفتاوی: ۸/ ۲۶۴، ط: دار الاشاعت کراچی)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات