معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 176155

حضرت ایک سوال پوچھنا تھا میراث کے متعلق ایک بندہ فوت ہوا ہے اس کا نکاح ہوا تھا لڑکی سے ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس لڑکی کو اس کی میراث میں سے حصہ ملے گا اور اس کی میراث میں سے اس کی بہنوں کو بھی حصہ ملے گا یا صرف اس کا ایک بھائی ہے اس کو ملے گا؟

Published on: Jan 16, 2020

جواب # 176155

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:430-262/sd=5/1441



اگر نکاح صحیح ہوا ؛ لیکن رخصتی نہیں ہوئی اور شوہر کا انتقال ہوجائے، تو بیوی مرحوم شوہر کی وارث ہوگی، اس کو شوہر کے ترکہ میں شرعی حصہ ملے گا۔



قال الحصکفی: (ویستحق الإرث) ۔۔۔(برحم ونکاح) صحیح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا۔ قال ابن عابدین: (قولہ ونکاح صحیح) ولو بلا وطء ولا خلوة إجماعا در منتقی۔ ( الدر المختار مع رد المحتار: ۴۹۷/۱۰، ط: زکریا، دیوبند)



باقی صورت مسئولہ میں آپ وضاحت کریں کہ مرحوم شخص کے انتقال کے وقت اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک باحیات تھا یا نہیں؟ اس کے بعد ہی بہن بھائیوں کے شرعی حصے کے بارے میں حکم لکھا جاسکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات