معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 175836

اللہ آپ کو امان میں رکھے ۔سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا مگر لڑکی کے گھر والے نہیں مان رہے تھے ایسے میں دونوں نے چھپ کر نکاح کر لیا اور اس نیت سے کیا کے اگر گھر والے نہ مانے تو یہ۔نکاح اوپن کر دیں گے اور بتائیں گے ہم تو محرم ہو چکے اور اگر مان گئے تو ہم۔یہ نکاح چھپائے رکھیں گے اور سب کے سامنے جو نکاح ہو گا وہ ہمارے لیے تجدید نکاح ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا ان کے گھر والے راضی ہو گئے اور روایتی شادی ہوئی اور نکاح ہوا لوگوں کے سامنے پہلی دفع نکاح تھا مگر دونوں کو ہی معلوم تھا کہ ہم تجدید کر رہے ۔اب یہ بتایا جائے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور آیا تجدید نکاح کی اسلام میں کیا گنجائش ہے اور ایسے میں پہلی دفع کے نکاح کو چھپائے رکھتے ہوئے رسم دنیا کے لیے نکاح کرنا کیسا ہے ۔

Published on: Jan 15, 2020

جواب # 175836

بسم الله الرحمن الرحيم


بالغ لڑکے اور لڑکی اگر شرعی گواہوں(کم از کم دو عاقل بالغ مرد یا اسی طرح کی دوعورتوں اور ایک مرد ) کی موجود گی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ذریعے نکاح کرلیں تو شرعا نکاح منعقد ہو جاتا ہے ، اس کے بعد دوبارہ نکاح کرنا ظاہر ہے کہ ایک فضول اور لغو عمل ہے ، بہر حال اگر لوگوں میں اظہار كے مقصد سے اور سماجی رسوائی سے بچنے کے لئے دوبارہ علانیہ نکاح کر لیتے ہیں تو یہ ناجائز نہیں ہے ، کسی مجبوری کے تحت ایسا کرنے کی صورت میں لڑکے کو چاہئے کہ گواہ بنالے کہ یہ جو نکاح ہورہا ہے اور جوکچھ مہر متعین کیا جارہا ہے یہ محض فرضی ہے ورنہ یعنی گواہ نہ بنانے کی صورت میں اگر بیوی متفق نہ ہوتو یہ مہر بھی ادا کرنا پڑے گا۔بہر حال صورت مسئولہ میں آپ کے دوست اور ان کی بیوی نے کوئی ناجائز عمل نہیں کیا۔



 المہر مہرالسر، وقیل العلانیة....(قولہ المہر مہرالسرإلخ) المسألة علی وجہین الأول: تواضعا فی السرعلی مہر ثم تعاقدا فی العلانیة بأکثر، والجنس واحد، فإن اتفقا علی المواضعة فالمہر مہرالسر وإلا فالمسمی فی العقد ما لم یبرہن الزوج علی أن الزیادة سمعة إلخ (الدرالمختاروحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 4: 315،ط:زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات