معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 175390

بعد سلام عرض ہے کہ میں ایک پچاس سالہ بیوہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں درج ذیل شرائط پہ جس پر بیوہ بھی راضی ہے اور واضح رہے کہ میری عمر تیس سال ہے۔
پہلی شرط۔گھر کیلئے جتنا خرچہ آپ دے سکتے ہو ٹھیک ہے باقی میں فکسڈ رقم آپ پر لاگوں نہیں کروگی۔
دوسری شرط۔آپ کی جتنی جائیداد ہے اس سے میرا اور میرے بچوں کا کوئی کام نہیں اور نہ ہی وراثت میں کچھ چاہئے مجھے اور میرے بچوں کو۔
تیسری شرط۔میں اپنا ولی خود ہوں صرف اسلامی شرط کو پورا کرنے کیلئے دو گواہ ہوں گے۔
چوتھی شرط۔نکاح کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گے اور خفیہ رکھیں گے۔ مذکورہ بالا شرائط پہ میں بھی راضی ہوں اور چوتھی شرط رکھنے کی مکمل وجہ صرف معاشرے کی رکاوٹ سے بچنے کیلئے ہے۔ آپ برائے مہربانی رہنمائی فرمائے کہ کیا ان شرائط کے تحت نکاح ہوگا یا نہیں؟

Published on: Dec 25, 2019

جواب # 175390

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:391-288/sn=4/1441



 سوال میں جن شرائط کا ذکر کیا گیا ہے ، ان میں سے بعض شرطیں مثلا شوہر کے انتقال پر بیوی کا وارث نہ ہونا،اسی طرح کتمان نکاح کی شرط یہ منشائے شریعت کے خلاف ہیں؛ کیونکہ وراثت ایک غیر اختیاری امر ہے ، وارث کے ساقط کردینے سے بھی وہ ساقط نہیں ہوتا ہے ،اسی طرح احادیث میں نکاح سے متعلق اعلان کی تاکید آئی ہے ؛ اس لیے یہ شرطیں ختم کردی جائیں ، ان کے علاوہ جو شرطیں ہیں ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں، اگر اول الذکر شرطیں رہیں گے تب بھی بیوی پر ان کا پورا کرنا شرعا ضروری نہ ہوگا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات