عبادات - جمعہ و عیدین

Pakistan

سوال # 175540

میں اسلام آباد میں جس آفس میں ملازمت کرتا ہوں وہاں پر ملازمین کی تعداد قریب قریب 700 کے لگ بھگ ہے۔ آفس کی عمارت کے اندر ہی باقاعدہ مسجد بنی ہوئی ہے۔ جہاں پر ہم جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ مسجد کے لئے پیش امام بھی مقرر ہیں،جو کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے تنخواہ لیتے ہیں۔ جوکہ معمول کے مطابق کہیں اور سے آتے ہیں اور ظہر سے عشاء تک رہتے ہیں اور نماز پڑھاے ے ہیں۔ فجر کی نماز کا علم نہیں کہ جماعت ہوتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح ہفتہ وار چھٹیاں ہوں یا اور کسی موقع کی چھٹیاں ہوں تو پیش امام بھی چھٹی پر ہوتے ہیں تو جماعت کی نماز کا اہتمام یا تو نہیں ہوتا یا کم ہوتا ہے۔ اس مسجد میں جمعہ کی نماز باقاعدہ ہوتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس جگہ جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے؟ جبکہ اگر کوئی چھٹی جمعہ کے دن ہو تو جمعہ بھی نہیں ہوتا۔ اس مسجد میں رمضان میں تراویح کا اہتمام اس سال ہوا پہلے نہیں ہوتا تھا۔ اس مسجد میں رمضان میں اعتکاف کی کیا صورت ہونی ہے؟ اللہ آپ سب کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے۔

Published on: Jan 15, 2020

جواب # 175540

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:354-305/N=5/1441



(۱): جمعہ کے لیے مسجد ہونا ہی شرط نہیں، چہ جائیکہ جس مسجد میں جمعہ پڑھا جائے، اس میں نماز پنجگانہ باجماعت ہونا شرط ہو؛ لہٰذا اگر آپ کا آفس ، اسلام آباد کی آبادی کی حدود میں ہے اور نماز جمعہ میں باہر والوں کو شرکت کی اجازت ہوتی ہے تو اُس میں جمعہ کی نماز جائز ہے اگرچہ چھٹی کے ایام میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ نہ ہوتی ہو۔



(۲): اگر یہ مسجد، مسجد شرعی ہے تو اس میں رمضان کے اخیر عشرے کا اعتکاف درست ہے ؛ ورنہ نہیں۔



وأما شروطہ فمنھا:…مسجد الجماعة، فیصح فی کل مسجد لہ أذا ن وإقامة ھوالصحیح کذا فی الخلاصة (الفتاوی الھندیة،کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ۱: ۲۱۱، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، ھو لبث ……ذکر ولو ممیزاً فی مسجد جماعة، ھو ما لہ إمام وموٴذن أدیت فیہ الخمس أو لا،… أو لبث امرأة في مسجد بیتھا…… بنیة، فاللبث ھو الرکن، والکون فی المسجد والنیة من مسلم عاقل طاھر من جنابة وحیض ونفاس شرطان (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳: ۴۲۸-۴۳۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ھذا کلہ لبیان الصحة (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات