عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 175008

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ،مسئلہ ہذا میں کہ گاؤں کی آبادی تقریباً 700 ہے تو کیا جمعہ فرض ہے اس گاؤں میں جمعہ بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد ظہر بھی جماعت سے ہوتی ہے کیا یہ صحیح ہے مدلل و مفصّل تحریر کریں۔

Published on: Dec 3, 2019

جواب # 175008

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 406-294/B=04/1441



احناف کے نزدیک جمعہ کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ قریہ کبیرہ ہو، قصبہ کے مانند، اس کی آبادی کم از کم ۳-۴/ ہزار کی ہو، وہاں بازار ہو، ضروریات لوگوں کی روز مرہ کی وہیں سے پوری ہوتی ہوں، متعدد کشادہ گلیاں ہوں کہ سواریوں کے آنے جانے کی سہولت ہو، وہاں مدنیت پائی جاتی ہو۔ آپ کا گاوٴں ابھی بہت چھوٹا دیہات ہے، احناف کے یہاں اس میں جمعہ جائز نہیں۔ آپ لوگوں کو جمعہ کے دن ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہئے، نماز جمعہ نہیں پڑھنی چاہئے۔ ابھی صبر سے کام لیں اورگاوٴں کے بڑے ہو جانے کا انتظار کرلیں۔ جب اوپر لکھے ہوئے شرائط پائے جانے لگیں، اس کے بعد مفتیان کرام کو بلاکر معائنہ کرائیں جب وہ لوگ جمعہ کا فیصلہ کردیں، پھر جمعہ کی نماز شروع کریں۔ نماز ظہر اصل ہے جمعہ تو ظہر کا قائم مقام ہے، اصل کو چھوڑ کر قائم مقام کے پیچھے نہ پڑیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات