عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 174086

مولانا مفتیان کرام امید ہے خیریت سے ہوں گے، مولانا میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ جمعہ کے یہاں ہمارے یہاں پر جب پیش امام صاحب خطبہ شروع کرتے ہیں تو تھوڑی دیر کے بعد وہ ممبر پر بیٹھ جاتے ہیں اور اس کے بعد کھڑے رہ کر دوسرا خطبہ شروع کر دیتے ہیں لیکن اہل حدیث حضرات کی مساجد میں ایسا نہیں ہوتا . ان کے یہاں خطبہ بہت مختصر ہوتا ہے ایسا کیوں؟ مولانا اس سلسلے میں تفصیل سے جواب درکار ہے تاکہ میرے ذریعہ بہت سارے افراد کو فائدہ پہنچ سکے کیونکہ بہت سارے لوگ اس تعلق سے سوال کرتے ہیں. برائے مہربانی جلد سے جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں تو نوازش ہوگی شکریہ، مولانا والدہ مرحومہ کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کی بھی درخواست ہے۔ ساتھ ہی دادا دادی نانا نانی و سبھی مرحومین کی مغفرت کی دعا کی بھی درخواست ہے، نیز میرے اور میرے خاندان بھائی بہنوں وسبھی جملہ رشتہ داروں نیز دوستوں کی صحت وعافیت نیز پریشانیوں سے بچنے کے لئے اور سبھی کے ایمان کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔

Published on: Nov 6, 2019

جواب # 174086

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 219-235/H=03/1441



جمعہ کے خطبے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ دو خطبے دیے جائیں اور دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طریقے سے خطبہ دیا کرتے تھے چنانچہ صحیح بخاری میں ہے عن ابن عمر - رضي اللہ عنہما - قال: کان النبي - صلی اللہ علیہ وسلم - یخطب قائماً ثم یقعد ثم یقوم کما تفعلون الآن (رقم الحدیث: ۹۲۰، ط: البشریٰ بیروت) (ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے تھے، پھر کھڑے ہوتے تھے جیسا کہ تم لوگ آج کرتے ہو) اور بھی دیگر کتب حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ دینے کا یہی طریقہ بیان کیا گیا، اور اگر مختصر خطبہ دینا مقصود ہو تو دونوں خطبوں کو مختصر کیا جائے؛ البتہ اختصار کی وجہ سے دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنا نہ چھوڑا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات