عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 174045

حضرت محترم درج ذیل معاملہ میں میری رہنمائی فرمائیں۔ جمعہ کی نماز کو پہنچنے میں کبھی دیر ہو جاتی ہے۔ جب مسجد پہنچتا ہوں تب خطبہ شروع ہوچکا ہوتا ہے۔ اب چونکہ خطبہ سننا واجب ہے اور خطبہ سنتے وقت کوئی دوسرا کام نہیں کرنا چاہئے اسلئے بغیروضو کئے خطبہ سننے بیٹھ جاتا ہوں جب خطبہ پورا ہوجاتا ہے تب فورا وضوکر کے نماز جمعہ میں شامل ہو جاتا ہوں۔ اس طرح مجھے خطبہ بھی پورا مل جاتا اور نماز بھی۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا خطبہ پڑھنے اور سننے کے لئے وضو شرط ہے۔ اور کیا دیر ہونے کی صورت میں میرا یہ عمل صحیح ہے؟

Published on: Nov 6, 2019

جواب # 174045

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:160-46T/sn=3/1441



خطبہ پڑھنے یا سننے کے لیے طہارت شرط تو نہیں ہے کہ اس کے بغیر خطبہ ہی معتبر نہ ہو؛ لیکن فقہا نے خطبہ کے لیے طہارت کو واجبات میں سے قرار دیا ہے ؛ اس لیے آپ کوشش کریں کہ مسجد اتنا وقت پہلے پہنچیں کہ وضو کرکے نیز چار رکعت سنت مؤکدہ ادا کرکے پورا خطبہ اطمینان سے سن سکیں ؛ باقی اگر اتفاقا کسی دن تاخیر ہو جائے تو اوّلا کسی قدر عجلت کے ساتھ وضو کرلیں پھر خطبہ سننے کے لیے مسجد میں داخل ہوں، اگر پورا خطبہ نہ مل سکے تو بھی نماز آپ کی ہوجائے گی۔



(قولہ وطہارة وستر عورة قائما) جعل الثلاثة فی شرح المنیة واجبات مع أنہ نفسہ صرح فی متن الملتقی بسنیة الطہارة والقیام کما فی کثیر من المعتبرات، وأما ستر العورة فصرح بأنہ سنة أیضا فی نور الإیضاح والمواہب وصرح فی المجمع وغیرہ بکراہة ترک الثلاثة ولعل معنی سنیة الستر مع کونہ واجبا خارجہا ولو فی خلوة علی الصحیح إلا لغرض صحیح ہو الاعتداد بہا وعدم وجوب إعادتہا لو انکشفت عورتہ بہبوب ریح ونحوہ وکذا الطہارة من الجنابة واجبة لدخول المسجد ولو بلا خطبة فتصح خطبتہ وإن أثم لہ متعمدا، ویدل علی ما قلناہ ما فی البدائع حیث قال والطہارة سنة عندنا لا شرط حتی إن الإمام إذا خطب جنبا أو محدثا فإنہ یعتبر شرطا لجواز الجمعة. اہ. وفی الفیض ولو خطب محدثا أو جنبا جاز ویأثم إثم إقامة الخطیب فی المسجد اہ وبہ ظہر أن معنی السنیة مقابل الشرط من حیث صحة الخطبة بدونہ، وإن کان فی نفسہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 23،ط:زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات