عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 173631

کیا فرماتے ہیں علمائکرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں دو مسجدوں میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے اور دونوں مسجدیں مکمل نہیں بھرتی ہیں اور اب تیسری اور چوتھی مسجد کے متولی صاحبان اپنی اپنی مسجدوں میں جمعہ کی نماز کرنا چاہتے ہیں لہذا معلوم یہ کرنا چاہتے ہیں کہ ایسی صورت میں ان متولی صاحبان کا اپنی اپنی مسجدوں جمعہ کرنا کیسا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ بالا کا جواب مرحمت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

Published on: Oct 17, 2019

جواب # 173631

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:41-25/N=2/1441



 



اگر آپ کا گاوٴں، بڑا گاوٴں بہ حکم قصبہ ہے، یعنی: وہاں صحت ِجمعہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں تو آپ کے گاوٴں میں ایک سے زائد مسجدوں میں بھی جمعہ کی نماز جائز ہے؛ کیوں کہ جس جگہ جمعہ جائز ہو، وہاں متعدد مساجد میں درست ہوتا ہے؛ البتہ بلا ضرورت ومصلحت سب مساجد میں جمعہ کا قیام مناسب نہیں۔ پس آپ کے گاوٴں میں تیسری اور چوتھی مسجد میں جمعہ کا قیام اگر بر بنائے ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ بر بنائے مصلحت ہے، یعنی: گاوٴں کی جس سمت میں یہ دونوں مسجدیں ہیں، ادھر غیر مسلم بھی رہتے ہیں، اگر وہاں کے لوگ پہلی اور دوسری مسجد میں جمعہ کے لیے آئیں گے تو محلہ میں غیر مسلموں کی طرف سے خطرہ ہوگاتو اس صورت میں تیسری اور چوتھی مسجد میں بھی جمعہ کے قیام میں کچھ حرج نہیں۔ اور اگر اس طرح کی کوئی مصلحت بھی نہیں ہے تو بلا وجہ تیسری اور چوتھی مسجد میں جمعہ کا قیام مناسب نہیں، اس سے احتراز چاہیے۔



وتوٴدی في مصر واحد بمواضع کثیرة مطلقاً علی المذھب، وعلیہ الفتوی، شرح المجمع للعیني وإمامة فتح القدیر دفعاً للحرج (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ۳: ۱۵، ۱۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”مطلقاً“: …ومقتضاہ أنہ لا یلزم أن یکون التعدد بقدر الحاجة کما یدل علیہ کلام السرخسي الآتي، قولہ: ”علی المذھب“: فقد ذکر الإمام السرخسي أن الصحیح من مذھب أبي حنیفةجواز إقامتھا في مصر واحد في مسجدین وأکثر، وبہ نأخذ لإطلاق ”لا جمعة إلا في مصر“، شرط المصر فقط (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات