متفرقات - اسلامی نام

India

سوال # 177327

میرے ایک دوست نے علامہ ابن القیم کی کتاب تحفة المودود کے حوالے سے بتایا کہ فرشتوں یا سورتوں کے نام (جیسے طہ ، یاسین وغیرہ) سے بچوں کا نام رکھنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ یہ نام (سورتوں کے) حروف مقطعات ہیں اور ان کا مطلب صرف اللہ کو معلوم ہے اور یہ انبیاء کے نام بھی نہیں ہیں۔ (ص: ۱۰۹)
اس سلسلے میں راہنمائی فرماکر ممنون فرمائیں کہ کیا فرشتوں کے نام مثلاً جبرئیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل وغیرہ اور سورتوں کے نام جیسے طہ ، یاسین وغیرہ نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟

Published on: Feb 26, 2020

جواب # 177327

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 513-421/N=06/1441



فرشتوں کے نام پر بچوں کا نام رکھنا جمہور علما کے نزدیک جائز ہے؛ البتہ امام مالکاور دیگر بعض علما نے ناپسند فرمایا ہے اور اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی نقل کی جاتی ہے؛ لیکن وہ ضعیف ہے۔ اور اگر وہ ثابت ہو تو ممانعت کراہت تنزیہی پر محمول ہوگی ؛ لہٰذا فرشتوں کے نام پر بچوں کا نام رکھنا جائز ہے اور نہ رکھنا افضل ہے۔ اور یاسین اور طہ بعض علما کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی میں سے ہیں؛لہٰذا یاسین اور طہ نام رکھنا بھی جائز ہوگا(فتاوی محمودیہ جدید، ۱۹: ۳۷۲، ۳۷۴، جواب سوال: ۹۳۷۶، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔



اور علامہ ابن القیمنے تحفة المودود میں اگر ایک طرف امام مالک اور حارث بن مسکین سے فرشتوں کے نام پر بچوں کا نام رکھنے کی کراہت نقل کی ہے تو حماد بن ابی سلیماناور دیگر بہت سے علما سے جواز بھی نقل کیا ہے اگرچہ اُن کی اپنی رائے امام مالککے موافق معلوم ہوتی ہے ؛ جب کہ فقہ حنبلی میں عدم کراہت کا قول آیا ہے جیسا کہ مغنی المحتاج وغیرہ میں ہے۔



ذہب أکثر العلماء إلی أن التسمیة بأسماء الملائکة کجبریل ومیکائیل لا تکرہ (الموسوعة الفقہیة، ۱۱: ۳۳۴، ۳۳۵)، قال القاضي عیاض: قد استظھر بعض العلماء التسمي بأسماء الملائکة، وھو قول الحارث بن مسکین، قال: وکرہ مالک التسمي بجبریل ویاسین، وأباح ذلک غیرہ، قال عبد الرزاق فی الجامع عن معمر قال:قلت لحماد بن أبي سلیمان: کیف تقول في رجل تسمی بجبریل ومیکائیل؟ فقال: لا بأس بہ (تحفة المودود بأحکام المولود:ص: ۲۰۱، الفصل الثانی فی ما یستحب من الأسماء وما یکرہ، ط: دار ابن القیم للنشر والتوزیع، الدمام)، ولا تکرہ التسمیة بأسماء الملائکة والأنبیاء ویٰس وطٰہ خلافاً لمالک رحمہ اللّٰہ تعالیٰ (مغني المحتاج، کتاب الأضحیة، فصل فی العقیقة، ۴: ۳۹۴، ط: دار المعرفة، بیروت)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات