عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 176223

میرا اپنے کزن کے ساتھ نکاح ہوا ہے رخصتی ابھی نہیں ہوئی۔ پچھلے دنوں ہم میسیج کے ذریعہ حیض کے متعلق بات کر رہے تھے ۔ وہ اپنی تکلیف کے بارے میں بتا رہی تھی۔ اس دوران اس نے کہا کہ اللہ کو انصاف کرنا چاہئے ۔ اس کے اس کلمہ پر کہ اللہ کو انصاف کرنا چاہئے میں نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور مجھے ڈر ہوا کہ اس سے تو شاید اسکا ایمان چلا گیا تو اس نے بتایا کہ میرا مطلب یہ تھا کہ حیض لڑکوں کو بھی آنا چاہئے صرف لڑکیوں کو کیوں۔ اس کے بعد سے میں نے اس سے رابطہ کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ۱) اس کلمہ کی وجہ سے کہ اللہ کو انصاف کرنا چاہئے کیا اسکا ایمان تو نہیں چلا گیا؟
۲) اگر اس کا ایمان چلا گیا ہے تو کیا اس سے ہمارا نکاح بھی ٹوٹ گیا؟
۳) اگر نکاح ٹوٹ گیا ہے اور میں اب رخصتی تک اس سے بات نہ کروں اور رخصتی پر دوبارہ اس سے نکاح کروں تو کیا نکاح ہو جائیگا؟ اور میرا یہ عمل کیسا ہوگا مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Feb 6, 2020

جواب # 176223

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 449-370/D=06/1441



 (۱) مذکورہ جملہ نہایت خطرناک اور بے باکانہ ہے۔ اگرچہ اس کی وجہ سے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، تاہم اس سے توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کے جملوں سے احتیاط کرنا لازم ہے۔



(۲، ۳) احتیاطاً ایمان کی تجدید (زبان پر کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کو یقین کے ساتھ جاری کرنا) اور تجدید نکاح (یعنی دو گواہوں کے سامنے نکاح کا ایجاب و قبول کرلینا بہتر ہے۔ (مستفاد از امداد الاحکام: ۱/۱۴۱، ط: زکریا، فصل في کلمات الکفر) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات