عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 175943

میرا ایک سوال ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ جس شخص سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو تو اس کو مسلسل کسی نیکی سے محروم رکھے چاہے وہ شخص کتنی ہی کوشش کیونہ کرلے ، بحوالہ ترجمہ جواب عنایت فرمائیں۔ اور کیا ایسا خیال کرنے میں کوئی کفر و کراہت یا قباہت والی بات تو نہیں جس کی وجہ سے متذبذب ہوا جائے۔ جواب جلد عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر

Published on: Jan 21, 2020

جواب # 175943

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:464-122T/sn=5/1441



اگر بندہ کوئی گناہ کرکے اللہ کو ناراض کرتا ہے ؛ لیکن بعد میں وہ بندہ توبہ واستغفار کرلیتا ہے اور اپنی حالت درست کرلیتا ہے تو اللہ کی ناراضگی ختم ہوجاتی ہے ،حدیث میں ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ہے؛ ہاں اگر کوئی شخص ڈھٹائی کے ساتھ گناہ کرتا رہتا ہے ، گناہ سے توبہ نہیں کرتا تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ، اس کے بعد وہ خیر سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جو شخص بلا کسی عذر کے ، محض سستی اور لاپرواہی کی بنا پر تین جمعہ ترک کردے ،اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ۔



 عن أبی الجعد الضمیری قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ترک ثلاث جمع تہاونا بہا طبع اللہ علی قلبہ . رواہ أبو داود والترمذی والنسائی وابن ماجہ والدارمی....(قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " من ترک ثلاث جمع ") : بضم الجیم وفتح المیم جمع جمعة (" تہاونا بہا ") : قال الطیبی، أی إہانة، وقال ابن الملک، أی تساہلا عن التقصیر لا عن عذر (" طبع اللہ ") ، أی: ختم (" علی قلبہ ") : بمنع إیصال الخیر إلیہ، وقیل: کتبہ منافقا. (رواہ أبو داود، والترمذی) : قال میرک: وحسنہ (والنسائی) : قال ابن الہمام: وحسنہ (وابن ماجہ، والدارمی) : قال میرک: والحاکم وقال: صحیح علی شرط مسلم .[مشکاة المصابیح مع المرقاة، رقم :1371، باب وجوبہا أی الجمعة ، الفصل الأول )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات