عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 175661

سوال: جواب: قسم: عقائد و ایمانیات ای میل: [email protected] ایڈریس: ۴۷، رامگنج بازار جیپور شہر: jaipur ملک: India عنوان:
بچپن سے یہ سنتے آےَ ہیں کہ شادیوں کے جوڑے اوپر سے بن کے آتے ہیں تو اس بات کی شریعت میں کیا اہمیت ہے ؟ کیا قسمت میں یہ لکھا ہے کہ فلاں شخص کو فلاں لڑکی ہی ملی گی نکاح کے لئے ،کیا یہ قسمت اٹل ہے یا دعایا اچھے یا برے اعمال سے یہ قسمت میں تبدیلی آ سکتی ہے تھوڑی وضاحت سے بتا کر شکریہ کا موقع دے ۔
جزاک اللہ

Published on: Dec 30, 2019

جواب # 175661

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:424-111/sn=5/1441



احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ قیامت تک جو کچھ ہونا ہے ، سب امور اللہ تعالی نے ازل میں ہی لکھ دیے ہیں، اسی کو ”تقدیر“ کہتے ہیں ، اور ظاہر ہے کہ کس کی شادی کس کے ساتھ ہوگی یہ چیز بھی لکھ دی گئی ہے ؛ کیونکہ یہ بھی من جملہ تقدیر ہے ؛ البتہ تقدیر کبھی مبرم( بالکل اٹل) ہوتی ہے اور کبھی معلق یعنی وہ تقدیر جو اعمال وغیرہ پر منحصرہوتی ہے ، اعمال کی وجہ سے اس میں تبدیلی ہوتی ہے ؛ باقی بندے کو چاہیے کہ تقدیر پر تکیہ کرکے نہ بیٹھا رہے ؛ بلکہ شریعت نے اسے جو جدو جہد، محنت اور وسائل اختیار کرنے کا حکم دیا ہے و ہ کرتا رہے ۔ تقدیر کے سلسلے میں مزید تفصیلات کے لیے دیکھیں (تحفة الالمعی :5/479،ط: مکتبہ حجاز ، دیوبند)۔



عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص، قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یقول: کتب اللہ مقادیر الخلائق قبل أن یخلق السماوات والأرض بخمسین ألف سنة، قال: وعرشہ علی الماء "، (صحیح مسلم ، رقم : 2653)



قال المظہر: اعلم أن للہ تعالی فی خلقہ قضاء ین مبرما ومعلقا بفعل ، کما قال: إن فعل الشیء الفلانی کان کذا وکذا ، وإن لم یفعلہ فلا یکون کذا وکذا من قبیل ما یتوق إلیہ المحو والإثبات ، کما قال تعالی فی محکم کتابہ: یمحو اللہ ما یشاء ویثبت (الرعد: 39) وأما القضاء المبرم؟ فہو عبارة عما قدرہ سبحانہ فی الأزل من غیر أن یعلقہ بفعل؟ فہو فی الوقوع نافذ غایة النفاذ بحیث لایتغیر بحال ، ولایتوقف علی المقضی علیہ ولا المقتضی لہ ، لأنہ من علمہ بما کان وما یکون وخلاف معلومہ مستحیل قطعا ، وہذا من قبل ما لایتطرق إلیہ المحو والإثبات. قال تعالی: لا معقب لحکمہ (الرعد: 41) وقال النبی علیہ السلام: لا مرد لقضائہ ولا مرد لحکمہ . فقولہ - صلی اللہ علیہ وسلم - إذا قضیت قضاء فلا یرد " من القبیل الثانی: ولذلک لم یجب إلیہ، وفیہ أن الأنبیاء مستجابو الدعوة إلا فی مثل ہذا. (رواہ مسلم)․ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح، رقم:5750، باب فضائل سید المرسلین.)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات