عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 175600

(۱) میت کو ایصال ثواب کیاجاتاہے، کیامیت کوپتاچلتاہے کس نے کیا؟
(۲) ہم نے سناہے جو ایصال ثواب کرتاہے اس کی تصویر دکھائی جاتی ہے میت کو ، کیاکوئی حدیث ہے اس بارے میں۔ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Jan 2, 2020

جواب # 175600

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:359-293/N=5/1441



(۱): جی ہاں! میت کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کے فلاں بیٹے یا بیٹی، عزیز، پڑوسی یا دوست نے دعا کی ہے یا ایصال ثواب کیا ہے (فتاوی محمودیہ،۹: ۲۱۸، جواب سوال: ۴۳۲۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)؛ لیکن تصویر دکھانے کی بات مجھے کسی حدیث یا معتبر کتاب میں نہیں ملی۔



أخرج الطبراني في الأوسط والبیھقي في سننہ عن أبي ھریرةقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”إن اللہ لیرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة، فیقول: یا رب! أنی لي ھذہ؟ فیقول: باستغفار ولدک لک“، ولفظ البیھقي: ”بدعا ولدک لک“، وأخرجہ البخاري في الأدب عن أبي ھریرةموقوفاً، وأخرج أیضاً عن أبي سعید الخدريقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”یتبع الرجل یوم القیامة من الحسنات أمثال الجبال، فیقول: أنی ھذا؟ فیقال: باستغفار ولدک لک“ (شرح الصدور للسیوطي، ص: ۳۰۴، ط:دار المدني للطباعة والنشر والتوزیع، جدة)، وأخرج ابن أبي الدنیا عن بشار بن غالب قال: رأیت رابعة في النوم، وکنت کثیر الدعاء لھا، فقالت لي: یا بشار! ھدایاک تأتینا علی أطباق من نور مخمرة بمنادیل الحریر، قلت: وکیف ذاک؟ قالت: ھکذا دعاء الموٴمنین الأحیاء إذا دعوا للموتی فاستجیب لھم جعل ذلک الدعاء علی أطباق النور، ثم خمر بمنادیل الحریر، ثم أتی بہ الذي دعي لہ من الموتی، فقیل لہ: ھذہ ھدیة فلان إلیک (المصدر السابق، ص: ۳۰۶)، ودعاء النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم للأموات فعلاً وتعلیماً ودعاء الصحابة والتابعین والمسلمین عصراً بعد عصرأکثر من أن یذکر وأشھر من أن ینکر، وقد جاء أن اللہ یرفع درجة العبد في الجنة فیقول: أنی لي ھذا؟ فیقال: بدعاء ولدک لک (کتاب الروح لابن القیم، المسألة السادسة عشر: ھل تنتفع أرواح الموتی بشیء من سعي الأحیاء أم لا؟، فصل: والدلیل علی انتفاعہ بغیر ما تسبب الخ، ص: ۴۴۲)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات