عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 175514

میں اپنی عمر قضا نماز کی نیت اس طرح کرتاہوں فجر کی نمازیں جتنی میرے ذمہ قضا ہیں ان میں سے جو سب سے اول ہے اس کی قضا پڑھتا ہوں اسی طرح ظہر عصر مغرب عشاء اور وتر واجب کی نیت کرتا ہوں کیونکہ مجھے دن تاریخ سال کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ اب میرا سوال ہے کہ میں اپنی عمر قضاء نماز ادا کر رہا ہوں اور اس دوران جو نمازیں قضاء ہوجاتی جس کی دن تاریخ سال مجھے معلوم رہتا ہے اس کی نیت میں اس طرح کرتاہوں جیسے ایک ربیع الثانی چودہ سو اکتالیس ہجری کی فجر کی قضاء پڑھتا ہوں۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط ؟ مہربانی کرکے جلد رہنمائی فرمائیں تاکہ سنت کے مطابق عمل کرسکوں۔

Published on: Jan 16, 2020

جواب # 175514

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 473-357/B=05/1441



آپ نے قضا نماز پڑھنے کی نیت کا جو طریقہ سوال میں ذکر کیا ہے وہ صحیح اور درست ہے، اسی کے مطابق پڑھتے رہیں۔ کثرت الفوائت نوی أوّل ظُہر علیہ أو آخرہ ۔ قال الشامی: مثالہ: لو فاتتہ صلاة الخمیس والجمعة والسّبت فإذا قضاہا لابدّ من التّعیین؛ لأنّ فجر الخمیس مثلاً غیر فجر الجمعة فإن أراد تسہیل الأمر یقول: أوّل فجر مثلاً، فإنّہ إذا صلاّہ یصیر ما یلیہ أوّلاً ، أو یقول: آخر فجرفإنّ ما قبلہ یصیر آخراً ، ولا یضرّہ عکس التّرتیب لسقوطہ بکثرة الفوائت ۔ (الدر مع الرّد، کتاب الصّلاة ، باب سجود السہو، ۳/۵۳۸، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات