عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 174573

حضرت علمِ جفر کی کیا شرعی حیثیت ہے؟

Published on: Nov 21, 2019

جواب # 174573

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:279-222/L=3/1441



 علم جفر میں ستاروں کو انسانی قسمت پر اثر انداز سمجھا جاتا ہے اور ان چیزوں کو مؤثر حقیقی سمجھنا کفر ہے، علاوہ ازیں ان علوم کے ذریعہ حاصل علم کوبالعموم قطعی ویقینی سمجھا جاتا ہے اور اس کو قطعی ویقینی سمجھنا بھی غلط ہے؛ اس لیے یہ علوم اسلام میں جائز نہیں، مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے جس شخص نے کسی "عراف" (غیب کی باتیں بتلانے والے) کے پاس جاکر کوئی بات دریافت کی تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔



عن صفیة، عن بعض أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من أتی عرافا فسألہ عن شیء، لم تقبل لہ صلاة أربعین لیلة.(صحیح مسلم،رقم الحدیث: 2230، باب تحریم الکہانة وإتیان الکہان)اور الأشباہ والنظائر میں ہے : تعلم العلم یکون فرض عین، وہو بقدر ما یحتاج إلیہ لدینہ...وحراما، وہو علم الفلسفة والشعبذة والتنجیم والرمل وعلم الطبیعیین والسحر.(الأشباہ والنظائر لابن نجیم ص: 328، الناشر: دار الکتب العلمیة، بیروت - لبنان)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات