معاملات - سود و انشورنس

Saudi Arabia

سوال # 177808

میں ۱۷ ریال فی گھنٹہ کے حساب سے ایک کمپنی میں سپلائر کے ساتھ کام کرتا ہوں جو کہ ۲ مہینے ۱۵ دن بعد ایک مہینہ کی تنخواہ دیتی ہے اور ایک مہینہ اور ۱۵ دن نیچے رکھتی ہے، میرے ساتھ ایک آدمی کام کرتا ہے جو کہ مجھ سے کہتا ہے کہ آپ اپنی تنخواہ مجھ پر بیچ دو یعنی کہ وہ مجھے ۱ ریال کٹنگ کرکے ۱۶ ریال کے حساب سے مجھ دے گا اور سپلائر سے ۱۷ ریال کے حساب سے وہ لے گا یعنی مجھے اپنی تنخواہ اس کے نام منتقل کرنی پڑے گی۔تو یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

Published on: May 2, 2020

جواب # 177808

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 740-562/B=09/1441



پیسوں کو پیسوں کے عوض کمی زیادتی کے ساتھ بیچنا جب کہ دونوں طرف ایک ملک کی کرنسی ہو یہ جائز نہیں یہ سود کی شکل ہو جائے گی۔ اس لئے مذکورہ شکل سے ایک ریال کی کٹنگ کے ساتھ ریال کو بیچنا جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات