معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 177495

بزنس کرنے کے لیے لون لینا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو اور کوئی صورت بتائیں۔

Published on: Mar 7, 2020

جواب # 177495

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:635-464/sn=7/1441



سود ی لین دین کی حرمت بہت شدید ہے، اللہ تعالی نے سودی لین دین سے باز نہ آنے والوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے؛ اس لیے شدید ضرورت کے بغیر سود پر مبنی لون لینا شرعا جائز نہیں ہے، خواہ بزنس کے مقصد سے لیا جائے یا کسی اور مقصد سے ؛ لہذا آپ بزنس کے لیے سود پر مبنی لون نہ لیں، ضرورت کی تکمیل کے لیے کوئی مباح تدبیر تلاش کریں، مثلا کسی سے قرض لے لیں یا کسی کے ساتھ شراکت یا مضاربت کا معاملہ کرلیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے رزق حلال کے لیے دعائیں بھی کریں ۔



 یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُ وسُ أَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) (البقرة: 275 - 279) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء.(صحیح مسلم 3/ 1219) ما حرم أخذہ حرم إعطاؤہ کالربا ومہر البغی وحلوان الکاہن والرشوة وأجرة النائحة والزامر، إلا فی مسائل (الأشباہ والنظائر لابن نجیم، القاعدةالرابعة عشرة، ص: 132، بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات