معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 177411

سرکاری ملازم جن کی تنخواہ بینک میں آتی ہے اور لازمی طور پر پی ایف کی رقم بینک میں جمع ہوتی رہتی ہے اس پر ہر سال بینک کچھ سود دیتا ہے۔ رٹائرمنٹ کے وقت ایسے بینک اکائنٹ میں لاکھوں کی رقم سود کی جمع ہو جاتی ہے اگر نکالا نہیں گیا ہے تو کیا اس سود کی رقم کو بینک میں چھوڑ دیا جائے یا نکال کر کسی غریب کی مدد کی جائے؟ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس سلسلے میں؟

Published on: Apr 2, 2020

جواب # 177411

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 667-503/B=08/1441



سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے ہر مہینہ کچھ پرویڈنٹ فنڈ کے نام سے سرکار کاٹ لیتی ہے اور پھر اتنی رقم اپنی طرف سے شامل کرتی ہے یہ اضافی رقم شرعاً سود نہیں ہے اگرچہ سرکار اس کا نام سود رکھتی ہے۔ کیونکہ یہاں سود کا کوئی معاملہ سرکار اور ملازم کے درمیان نہیں ہوا ہے، ملازم کے قبضہ میں آنے سے پہلے خود سرکار نے پی ایف کی کاٹی ہے اور پھر خود اتنی رقم اپنی طرف اضافہ کی ہے۔ تو یہ سرکار کی طرف سے ملازم کے لئے عطیہ ہے جو سرکار نے ملازم کے حسن کار کردگی پر دیا ہے یہ اضافہ سود نہیں ہے لہٰذا ریٹائرمنٹ کے وقت کل رقم ملازم نکال سکتا ہے اور اپنے ہر کام میں استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ساری رقم صحیح و حلال ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات