معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 177262

دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص نے مدرسہ کے مہتمم صاحب کو بیت الخلاء کی تعمیر بابت سودی رقم دی ابھی یہ رقم مہتمم کے پاس ہی تھی کہ مدرسہ کے منشی نے مدرسہ کے فنڈ سے بیت الخلاء کی تعمیر کرادی تو کیا اب یہ سودی رقم اس کی جگہ مدرسہ کے فنڈ میں جمع کرنا جائز ہے؟

Published on: Apr 5, 2020

جواب # 177262

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:598-475/N=8/1441



سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ اکابر علما ومفتیان دیوبند کے فتاوی کے مطابق سود کی رقم بیت الخلا یا استنجا خانہ وغیرہ کی تعمیر میں نہیں لگائی جاسکتی ؛ بلکہ اگر کسی انسان سے حاصل کردہ سود ہے تو وہ اُسی کو واپس کرنا چاہیے ۔ اور اگر اُس کا یا اُ س کے وارثین کا کچھ اتہ پتہ نہ ہو، جس کی وجہ سے اُسے واپس کرنا ممکن نہ ہو یا وہ بینک سے حاصل کردہ سود ہو تو بلا نیت ثواب غربا ومساکین کو دے کر اُنھیں مالک بنادیا جائے۔ اور اگر سرکاری بینک کا سود ہو تو وہ انکم ٹیکس یا سیل ٹیکس وغیرہ (غیر شرعی ٹیکسس) میں بھی دیا جاسکتا ہے، پس صورت مسئولہ میں جس شخص نے مہتمم مدرسہ کو سودی رقم بیت الخلاء کی تعمیر کے لیے دی ہے، اُسے وہ رقم شرعی مسئلہ بتاکر واپس کردی جائے۔ اور اگر اُس کی اجازت ہو تو غریب طلبہ میں تقسیم کردی جائے اور وہ اس سے اپنی اپنی کوئی ضرورت پوری کرلیں۔



ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ ، فصل فی البیع ،۹: ۵۵۳،ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالہدایة وغیرہا: أن من ملک بملک خبیث، ولم یمکنہ الرد إلی المالک، فسبیلہ التصدقُ علی الفقراء……،قال:والظاھر إن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغ ذمتہ، ولا یرجو بہ المثوبة (معارف السنن، أبواب الطہارة، باب ما جاء: لا تقبل صلاة بغیر طہور، ۱: ۳۴، ط: المکتبة الأشرفیة، دیوبند)، أفتی بعض أکابرنا أن للمسلم أن یاخذ الربا من أصحاب البنک أہل الحرب في دارہم، ثم یتصدق بہ علی الفقراء، ولا یصرفہ إلی حوائج نفسہ (إعلاء السنن۱۴:۳۷۲،ط: إدارة القرآن والعلوم الاسلامیة، کراتشي)، ویبرأ بردھا ولو بغیر علم المالک، فی البزازیة:غصب دراہم إنسان من کیسہ، ثم ردہا فیہ بلا علمہ برئ، وکذا لو سلمہ إلیہ بجہة أخریٰ کہبة وإیداع وشراء، وکذا لو أطعمہ فأکلہ،…،زیلعي (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الغصب، ۹: ۲۶۶، ۲۶۹)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات