معاملات - سود و انشورنس

INDIA

سوال # 176864

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل بزنس کے بارے میں، زید نے ایک آفس بنایا جن کا نام غریب بینک ہے ۔غریب بینک کا کام ہے ضرورتمندوں کو قرضہ دینا اور ویلفیئر کا کام کرنا ۔ غریب بینک کے کچھ اپنے شرائط ہیں جو درج ذیل ہیں نمبر1 ) یہ بینک قرضہ صرف انہی کو دے گا جو غریب بینک کا ممبر ہوگا نمبر2 )1000 سے 3000 تک قرضہ لینے کے لیے غریب بینک میں 500 روپے کا سالانہ ممبر بننا ہوگا جس کی ویلیڈیٹی صرف ایک سال کی ہوگئی آئندہ سال قرضہ لینے کے لیے دوبارہ ممبر بننا ہوگا نمبر 3 ) نئے ممبر بننے والوں کو 56 دن کے بعد ہی غریب بینک قرضہ دے گی نمبر 4 ) قرضہ لینے کے لیے بینک آفس سے آپ کو فارم خریدنا ہوگا جن کی قیمت آپ کو فارم لینے سے پہلے ادا کرنی ہوگی اور ان کی دو صورتیں ہونگی ایک آف لائن اور ایک آن لائن فارم کی مختلف قیمتیں ہوں گی ۔ آپ کتنے دنوں کے لیے کتنا قرضہ لے رہے ہیں اسی اعتبار سے فارم کی قیمت ہوگی مثال کے طور پر ایک ہزار روپیہ چودہ دن کے لئے فارم کی قیمت 50 روپے دو ہزار روپے چودہ دن کے لئے فارم کی قیمت 75 روپے تین ہزار روپے چودہ دن کے لئے فارم کی قیمت 100 روپئے نوٹ۔ ممبران اور فارم سے آئی ہوئی رقم غریب بینک میں کام کرنے والے لوگوں کو تنخواہ کی شکل میں دی جاتی ہے کیا اس طرح کا بزنس کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Published on: Mar 5, 2020

جواب # 176864

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 591-471/D=07/1441



قرض شریعت کی نظر میں تبرع محض ہے، یعنی انسان قرض دے کر اس پر کسی قسم کا نفع حاصل نہ کرے، کیونکہ یہ زیادتی سود ہے، جو شریعت میں حرام ہے۔ قرآن کریم میں اللہ نے سود خور کے خلاف اعلان جنگ فرمایا ہے، اور سوال میں مذکورہ طریقے میں غریب بینک قرض انہی کو دے گا، جو پانچ سو سالانہ کے ممبر ہوں گے۔ یہ قرض سے نفع حاصل کرنا ہے جو حرام ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات