معاملات - سود و انشورنس

Germany

سوال # 176802

جس ملک میں میں رہتا ہوں وہاں یہ معمول ہے کہ جب کوئی فلیٹ کرائے پر لینا چاہتا ہے تو مالک مکان تین مہینوں کا کرایہ ایڈوانس میں مطالبہ کرتا ہے، اسے فلیٹ میں آنے سے پہلے یہ رقم ادا کرنی ہوتی ہے، مالک مکان یہ رقم بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں ڈالتا ہے، مالک مکان ایسا اس لیے کرتا ہے کہ اگر کرایہ دار اس کے ساتھ کوئی دھوکا کرے یا فلیٹ کی کسی چیز کو نقصان پہنچائے تو اس کے پاس ایک اچھی خاصی رقم ہوگی، بینک اس پر سود کی رقم لگاتا ہے، لہذا اسے 3500 ڈالر ایڈوانس دینے ہوتے ہیں، مثلًا 20 سال بعد یہ 35 سو ڈالر 7 ہزار ڈالر بن جاتے ہیں، جب کرایہ دار اس فلیٹ سے جاتا ہے تو مالک مکان اسے سود سمیت ایڈوانس واپس کرتا ہے، لہذا کرایہ دار 7 ہزار ڈالر واپس لیتا ہے، کیا اس معاہدہ کے ساتھ کرایہ داری کا معاہدہ کرنا جائز ہے؟ اگر فلیٹ تلاش کرنا مشکل ہو، جہاں مجھے اس طرح کا معاہدہ نہ کرنا مشکل ہو، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کرایہ دار ایڈوانس کے ساتھ کیا کرے جب وہ سود کے ساتھ واپس لے ؟

Published on: Feb 23, 2020

جواب # 176802

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 601-560/M=06/1441



ایڈوانس رقم کا مطالبہ مالک مکان کو نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر ایڈوانس رقم لے کر کرایہ دار کو مکان مفت (فری) میں رہنے کے لئے دیتا ہے یا معروف کرایہ میں کمی کرتا ہے تو اس طرح کرایہ پر لینا درست نہیں، ہاں ااگر معروف کرایہ طے ہوا اور ایڈوانس رقم کی وجہ سے تخفیف کا معاملہ نہ ہو تو حرج نہیں لیکن مکان خالی کرنے کے وقت ایڈوانس والی رقم اگر اضافہ کے ساتھ ملے تو اضافہ سود ہے لہٰذا اپنی اصل جمع رقم رکھ کر اضافہ والی رقم کو بلانیت ثواب فقراء کو دیدی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات