معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 176698

میرا نام ہارون شیخ ہے ، ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتاہوں، میرے گھر کی حالت تقریباً دو سال سے ٹھیک نہیں ہے، میں اپنا خود کا کاروبار کرنا چاہتاہوں، میرے گھرمیں کمائی والوں میں صرف میرا بھائی ہے، جو کہ گھر کی ضروریات پوری کرتاہے ، لیکن ان کو ملنے والی تنخواہ ماہانہ قریب 10000 سے 11000 تک ہی ہوپاتی ہے، جس سے سبھی ضروریات پوری نہیں ہوپاتی، ان کی عمر شادی کی بھی ہوچکی ہے، قریب ۲۸ سال ان کی عمر ہے، ہمارا گھر بھی کچڑا بنا ہوا ہے ، پیسے اور اچھا گھر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوسکی، میں اپنے گھر والوں کی مدد کرنا چاہتاہوں، مجھے کاروبار کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے ، میں نے اپنے جاننے والوں سے بغیر انٹریسٹ کے ادھا روپئے دینے کی بات بھی کی ، لیکن کوئی دینے کو تیار نہیں ، میں نے کام بھی تلاش کیا ، لیکن جتنی بھی جگہ انٹرویو دینے گیا ، صحت اور داڑھی کی بنیاد پر مجھے منع کردیا گیا، میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ میں بینک سے روپئے ادھا ر لے کر اپنا کام کروں، میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہاہے، کیا اس صورت میں میں بینک سے لون لے سکتاہوں؟ براہ کرم، میری رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Mar 11, 2020

جواب # 176698

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:619-171T/SN=7/1441



سود ی لین دین کی حرمت بہت شدید ہے، اللہ تعالی نے سودی لین دین سے باز نہ آنے والوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے؛ اس لیے سوال میں جو ضرورت پیش کی گئی ہے وہ اس شدید حرمت کے رفع ہونے کے لیے کافی نہیں ہے؛ لہذا صورت مسئولہ میں آپ کاروبار کے لیے سود پر مبنی لون نہ لیں، اس ضرورت کی تکمیل کے لیے کوئی مباح تدبیر تلاش کریں اور اللہ تعالی سے دعائیں بھی کریں ۔



 یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُ وسُ أَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) (البقرة: 275 - 279) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء.(صحیح مسلم 3/ 1219) ما حرم أخذہ حرم إعطاؤہ کالربا ومہر البغی وحلوان الکاہن والرشوة وأجرة النائحة والزامر، إلا فی مسائل (الأشباہ والنظائر لابن نجیم، القاعدةالرابعة عشرة، ص: 132، بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات