عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

india

سوال # 177975

سوال: (1 ) برتھ ڈے منانا کیسا ہے ؟
(2 ) اسلامی حدود میں رہتے ہوے کیک کاٹنا{ cake cutting }کرنے کا حکم... ؟
(3 ) سنا ہے کہ اس لے اس کو منانے سے منع کیاگیا ہے کہ اس سلسلہ میں شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے ، لیکن میرا سوال یہ کہ اس کو ہم عبادت کی طور پر تو نہیں کرتے ہیں پھر اس کے لئے حدیث میں باقاعدہ ذکر آنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے ؟ ( جیسا کہ موبائل کا حدیث میں کوئی ذکر نہیں ہے ، لیکن وہ مباح کے قبیل سے ہے ) تو مہربانی سے میرے ان تین سوالوں کے جوابات پیش کرکے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

Published on: May 2, 2020

جواب # 177975

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 743-616/D=09/1441



(۱) برتھ ڈے منانا غیروں کے طریقے اور ان کے مذہبی شعار کی نقل ہے (عیسائیوں کے کرسمس ڈے کی نقل) جو چیزیں غیروں کے مذہبی قومی اور تہذیبی شعار ہیں ایسی چیزوں کا مسلمانوں کو اختیار کرنا منع ہے لہٰذا برتھ ڈے منانے کی اجازت شریعت مطہرہ میں نہیں ہے اس سے احتراز لازم ہے۔



(۲) نفس کیک کاٹنا اور اسے کھانا فی نفسہجائز اور مباح عمل ہے لیکن مخصوص ایام جیسے برتھ ڈے وغیرہ میں خاص پاپندیوں کے ساتھ کیک کاٹنا پھر اسے تقسیم کرنا غیروں کے طریقے کی نقل اور بری رسم ہے مسلمانوں کو اس طرح کی رسومات سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔



(۳) غیر مسلم جن کاموں کو مذہبی نقطہ نظر سے یا عبادت اور تقریب کے طور پر کرتے ہیں ان کاموں کو کسی مسلمان کے لئے اختیار کرنا مطلقا ناجائز اور حرام ہے۔ ارشاد خداوندی: وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ یعنی اے مسلمانوں (ان) ظالموں کی طرف (یا جو ان کی مثل ہوں ان کی طرف دلی دوستی یا اعمال و احوال میں مشارکت و مشابہت سے) مت جھکو کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جاوے (اور اس وقت) خدا کے سوا تمہارا کوئی رفاقت کرنے والا نہ ہو۔ (سورہ ہود، آیت: ۱۱۳)



اور ان غیر مسلموں کے خاص مذہبی رسومات اور طریقوں میں سے کسی طریقہ کو چاہے لباس پوشاک میں ہو یا کسی طرح کی تقریبی شکل میں ہو اختیار کرنا اگرچہ عبادت کے طریقے پر نہ ہو تب بھی وہ ناجائز اور ممنوع ہے۔ پس برتھ ڈے منانا چونکہ غیر اسلامی طریقہ ہے جس میں غیروں کی تہذیب اور مذہبی شعار سے مشابہت ہونے کے ساتھ دیگر ناجائز اور گناہ کے کام بھی شامل ہوتے ہیں اس لئے مسلمانوں کو اس سے احتراز کرنا لازم ہے اگرچہ عبادت کے طور پر نہ کیا گیا ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات