عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 177056

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ میرا تعلق ایک دیہاتی علاقے سے ہے وہاں جب کسی کی فوتگی ہوجاتی ہے تو میت کے نماز جنازہ اور ہمدردی میں آنے والے لوگوں کے کھانے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ان کے لئے کھانے کا بندوبست کرتی ہے ۔۔ تین دن کے بعد کمیٹی ختم ہو جاتی ہے اور پورے خرچ کا حساب لگا کر اس کمیٹی ممبران پر تقسیم کیا جاتا ہے ۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ کھانا جائز نہیں اب ہمارے ہاں دیہات میں ہوٹل وغیرہ کا انتظام نہیں ہے تاکہ لوگ وہاں سے کھانا کھا سکیں اس طرح دور دراز سے آنے والے لوگوں کے کھانے کے لیے کمیٹی کے علاوہ کوئی بندوبست نہیں ہوسکتا ۔۔۔ اگر یہ کھانا جائز ہے تو براہ کرم احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ لوگوں کا اشکال دور ہوجائے ۔اگر نا جائز اور حرام ہے تو براہ کرم ہمارے دیہاتی علاقے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا کوئی متبادل حل عرض فرمائیں ۔

Published on: Apr 22, 2020

جواب # 177056

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 821-726/H=08/1441



متبادل بے غبار شرعی طریقہ بہت آسان ہے تاہم اس کے اپنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اولاً سب مل جل کر جو رسم رائج ہے اس کو ختم کردیں نہ کمیٹی بنائی جائے نہ کمیٹی کے ممبران پر اخراجات کو تقسیم کیا جائے ثانیاً اتنا کریں کہ میت کی تجہیز تکفین تدفین نماز جنازہ میں بقدر ضرورت تاخیر سے زیادہ تاخیر ہرگز نہ کی جائے بقدر ضرورت کا معیار یہ ہے کہ تدفین تک کے تمام مراحل کے لئے جتنی دیر صرف ہو بس اتنے وقت میں جو لوگ آجائیں وہ آجائیں دور دراز علاقوں میں اعلان و اطلاع کرکے تدفین میں آنے والوں کا انتظار کرکے تاخیر نہ کی جائے ثالثاً چہرہ میت کا دکھلانے کی رسم کو بند کر دیا جائے چہرہ دیکھنے دکھانے میں بھی شرعی احکام کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے تدفین سے فارغ ہوکر آنے والے لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو جائیں میت کے مکان پر بعد تدفین جمع ہونے کی رسم کو بھی حذف کردیں میت کے گھر والوں اور ایسے قریبی لوگ دو چار مثلاً بیٹی، نواسی وغیرہ کہ جو اپنے گھر واپس نہ ہو سکیں ان کے بقدر سیدھا سادہ کھانا بناکر کوئی بھی عزیز تعلق والا شخص میت کے گھر بھیج دے بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کو اصرار کرکے کھلادے مروجہ رسموں کو ختم کرکے سیدھے سادے اِس طریقہ پر عمل کریں گے تو سب کے لئے اس میں سہولت ہی سہولت ہے اور کسی کو ان شاء اللہ کوئی اشکال پیش نہ آئے گا گاوٴں والوں کے لئے بھی اسی میں آسانی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات