عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

India

سوال # 176867

آج ملک کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری مسجد میں ایک وظیفہ کا اہتمام ہورہاہے جس کے بعد بڑے ہی اہتمام کے ساتھ بلا ناغہ چالیس دن تک اجتماعی دعا کرائی جارہی ہے، جس میں ۱۰۰ بار استغفار، ۱۰۰ بار” لا حولہ و لا قوة الا باللہ “، اور ۷۰ بار درود ہے جسے صلاة تنجینہ کے نام سے جانا جاتاہے جس کا تذکرہ فضائل اعمال میں بھی ہے جو بزرگوں سے ثابت ہے سنت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ،تو کیا اس طرح کی چیز یں جو سنت سے ثابت نہیں ، ان کا کرنا بدعت تو نہیں ہے؟

Published on: Feb 23, 2020

جواب # 176867

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 571-440/B=06/1441



افضل اور بہتر تو یہ ہے کہ وہ درود پڑھا جائے جو احادیث میں منقول ہے۔ درود تنجینا اگرچہ حدیث سے ثابت نہیں، لیکن معنی کے لحاظ سے صحیح ہے۔ حضرت مولانا سید حسن مدنی رحمہ اللہ اسے بکثرت پڑھتے تھے۔ لہٰذا دعا کے طور پر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، یہ بدعت میں شمار نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات