عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 176422

امام نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے تو مقتدی بھی ہاتھ اٹھاتے ہیں اور دعا سراً ہوتی ہے ،اس کو اجتماعی دعا کہا جائے گا یا اجتماعی دعا وہ ہے کہ امام جہراً دعا کرے اور مقتدی آمین کہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ۔

Published on: Feb 9, 2020

جواب # 176422

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 528-511/M=06/1441



دعا جہری ہو یا سرّی، مقتدی اگر دعا میں امام کی پیروی کو ضروری سمجھیں کہ امام کے شروع کرنے پر شروع کریں اور امام کے ختم کرنے پر ختم کریں، ایسی دعا اجتماعی ہے اس کے التزام کے بغیر دعا کرنی چاہئے۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اقتداء کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد دعا سرًّا کرنا اولیٰ ہے اجتماعیت از خود پیدا ہو جائے تو مضایقہ نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات