عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

india

سوال # 175870

حضرت مفتی صاحب عرض خدمت یہ ہے کہ کیا گھر میں قران خانی کرا سکتے ہیں حافظ عالم کو بلوا کر ؟ہمیں ایک حضرت نے کہا ہے کہ یہ بدعت ہے ۔ گذارش ہے کہ آپ اس کا جواب ارسال فرمائیں۔

Published on: Jan 21, 2020

جواب # 175870

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 511-386/B=05/1441



مروجہ قرآن خوانی جس میں باقاعدہ حافظ عالم کو بلواکر قرآن پڑھنے کے بعد کھانے یا ناشتے کا اہتمام ہوتا ہے اور پیسے وغیرہ کی شکل میں کچھ معاوضہ دیا جاتا ہے یہ شرعاً ناجائز و بدعت ہے، اگر قرآن خوانی میں مذکورہ خرابیاں نہ ہوں تو بلاشبہ جائز ہے جس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حسب موقع انفرادی طور پر تلاوت کرکے اپنے مقصد کے لئے دعا کر لیا کریں۔



والحاصل أنّ اتخاذ الطّعام عند قراء ة القرآن لأجل الأکل یکرہ (رد المحتار، کتاب الصلاة، ۱/۳۶۲، باب صلاة الجنائز ، زکریا دیوبند) فالحاصل أنّ ما شاع في زماننا من قراء ة الأجزاء بالأجرة لایجوز؛ لأنّ فیہ الأمر بالقراء ة وإعطاء الثّواب للأمر والقراء ة لأجل المال: فإذا لم یکن للقاری ثواب لعدم النّیة الصّحیحة فأین یصل الثواب إلی المستأجر ۔ (ردالمحتار، کتاب الإجارة ، باب الإجارة الفاسدة، ۹/۷۷، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات