عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 175853

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ میری برادری میں ایک رواج ہے کیا یہ خلاف سنت ہے ؟شرعا اس کا کیا حکم ہے ؟ رواج یہ ہے کہ لڑکی کی رخصتی ہوتی ہے تب لڑکی والے اس وقت ایک کھجور کی گٹلی بھی نہیں کھلاتے اور کچھ دن بعد ایک دعوت رکھتے ہیں کہ بیٹی کا فریضہ ادا ہوا ہے اور داماد کا تعارف ہو جائے رشتہ داروں میں اس میں نہ لڑکے والے یہ کہتے ہیں کہ ہم اتنے افراد لائیں گے اور نہ ہی کوئی فرمائش ہوتی ہے ۔( جیسے کہ بارات میں ہوتا ہے ۔) ۔ اس طرح دعوت میں شرکت کرنا اور مدعو کرنا کیسا ہے ؟(مشہور یہ ہے کہ لڑکی کا کھانا سنت سے ثابت نہیں) * کیا مذکورہ دعوت کا طریقہ اسی زمرہ میں آئے گا؟ نیز ادھار لے کر اس طرح دعوت کرنا کیسا ہے ؟ رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ

Published on: Feb 1, 2020

جواب # 175853

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:382-312/sd=6/1441



عام حالات میں کسی رسم کے بغیر نام و نمود اور اسراف سے بچتے ہوئے متعلقین اور رشتہ داروں کی دعوت کرنا اور دعوت قبول کرنا صلہ رحمی میں داخل ہوکر موجب ثواب ہے؛ لیکن کسی رسم کے تحت دعوت کرنا اور قبول کرنا قابل ترک عمل ہے، پس لڑکی والوں کی طرف سے جو دعوت کی جاتی ہے، اگر وہ کسی رسم کے تحت نہیں ہوتی، مثلا: اس دعوت کو کسی خاص نام سے موسوم نہیں کیا جاتا اوراس کو لازم اور ضروری نہیں سمجھا جاتا ؛ بلکہ دو خاندان میں نئی قرابت داری کی وجہ سے یہ دعوت کی جائے، تو اس کو قبول کرنے میں مضائقہ نہیں؛ صورت مسئولہ میں سوال کے بعض اجزاء سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے یہاں یہ دعوت شاید رسم کی شکل اختیار کرچکی ہے اور ہم چونکہ اس کی نوعیت سے واقف نہیں ہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ مقامی مستند دار الافتاء سے رجوع کرلیا جائے، باقی اصل شرعی حکم لکھ دیا گیا ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات