معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 176956

میرے والد کے چھ بیٹے ہیں اور تین بیٹیاں ، والدصاحب کی عمر ۷۰ سال ہے اور میرے چار بھائیوں کی شادی ہوچکی ہے، تین بہنوں کی بھی شادی ہوگئی ہے، پچھلے پندرہ سال سے والد صاحب گھر پہ ہی رہتے ہیں، سبھی بھائی ان کی برابر کرتے ہیں ، کوئی جان سے تو کوئی مال سے، ہمارے سب سے بڑے بھائی پچھلے نو سال سے والد صاحب کی دکان پر اپنا کارو بار کرتے ہیں جس کا ان سے کرایہ نہیں لیا جاتا ہے، اس دکان کی قیمت آج کے حساب سے ۷۰ لاکھ روپئے ہوتی ہے، اس کے بر عکس دو بھائی پچھلے ۱۸/۲۰ سال سے گھر کے بڑے خرچ اٹھا چکے ہیں، اور والد صاحب کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو وہ دکان دیدے جو بڑے بھائی چلارہے ہیں جس کی قیمت میرے ماں باپ کی کل جائیداد کا آدھا حصہ ہے تو کیا اپنی حیات میں والد صاحب اپنی سب سے چھوٹی اولاد کو یہ دکان وصیت کرسکتے ہیں بنا کسی دوسری اولاد کو بتائے ؟
براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ والد صاحب پڑھے لکھے نہیں ہیں ، نہ ہی وہ دین اسلام کا علم رکھتے ہیں۔

Published on: Mar 7, 2020

جواب # 176956

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 586-458/B=07/1441



حالت حیات میں باپ اگر اپنی اولاد کے درمیان اپنی جائیداد وغیرہ تقسیم کرے تو افضل یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد کے درمیان خواہ لڑکا ہو یا لڑکی برابر برابر حصہ تقسیم کرکے ہر ایک کو مالک و قابض بنادے، بلاوجہ کسی لڑکے کو کم یا کسی کو زیادہ نہیں دینا چاہئے۔ حدیث شریف میں آیا ہے: سووا بین أولادکم فی العطیة ۔ یعنی عطایا اور بخشش میں اولاد کے درمیان مساوات اختیار کرو۔ اور اپنی اولاد کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ لا وصیة لوارث (حدیث)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات