معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 176153

اور میرے والد صاحب کا انتقال 7دسمبر 2019 کو ہوا ہے . انتقال کے وقت ان کے نام 2 گاڑیاں، ایک کنال کا گھر بنک میں 1200000 روپے اور جی پی فنڈ جو ابھی ان کو ملا نہیں تھا جو تقریباً 5000000 کے قریب ملنا ہے ، ہماری والدہ اور ہم 3 بھائی اور 4 بہنیں حیات ہی، ہم سات بہن بھائیوں میں سے 3 بہنوں اور ایک بھائی کی شادی ہوئی ہے اور 1بہن اور 2 بھائیوں کی شادی باقی ہے اور ایک بھائی کی تعلیم بھی جاری ہے ، میرے والد جو بنک میں پیسے ہیں ان کے لیے میری والدہ کو نامزد کر کے گئے ہوئے ہیں، اب میرے والد کے انتقال کے وقت ان پر اپنے 3 بچوں کی شادی اور ایک بھائی کی پڑھائی کی ذمہ داری باقی تھی، اب جو بھی انہوں نے وراثت میں چھوڑا اس میں سے پہلے ان کی ذمہ داریاں پوری کی جائیں اور پھر وراثت تقسیم کی جائے یا پھر پہلے وراثت کی تقسیم کی جائے ؟
برائے مہربانی تفصیلی جواب سے نوازیں۔ شکریہ

Published on: Jan 16, 2020

جواب # 176153

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 598-473/H=05/1441



وراثت پہلی فرصت میں تقسیم کرلیں اور ہر وارث کو اس کا حصہٴ شرعیہ اس کے قبضہ میں دیدیں اور مل جل کر سادگی کے ساتھ بھائی بہن کا نکاح بھی کرلیں۔ وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ بعد اداءِ حقوقِ متقدمہ علی المیراث والد مرحوم کا کُل مالِ متروکہ اَسّی (۸۰) حصوں پر تقسیم کرکے دس (۱۰) حصے مرحوم کی بیوہ کو اور چودہ چودہ (۱۴-۱۴) حصے تینوں بیٹوں کو اور سات سات (۷-۷) حصے مرحوم کی چاروں بیٹیوں کو ملیں گے۔ التخریج:



کل حصے   =           80



-------------------------



زوجہ       =           10



بیٹا          =           14



بیٹا          =           14



بیٹا          =           14



بیٹی         =           7



بیٹی         =           7



بیٹی         =           7



بیٹی         =           7



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات