معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 175993

بکر کے پاس ڈیڑھ ایکڑ زمیں تھی اب جب کے بکر کا انتقال ہو چکا ہے اور بکر کی کوئی اولاد بھی موجود نہیں ہے ، اور بکر کے 6بھائی اور 3 بہن موجود ہیں جن میں سے 3بھائی اور 2 بہن ماں اور باپ شریک ہے ، اور 3بھائی اور 1بہن صرف باپ شریک ہے . لہذا جاننا یہ ہے کہ اب جب کہ میراث تقسیم ہوگی تو ان میں سے کن کو کتنا دیا جائیگا برائے کرم رہنمائی فرمائی۔ عین و کرم ہوگا۔

Published on: Jan 15, 2020

جواب # 175993

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:422-336/N=5/1441



حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بھائی بہن وارث نہیں ہوتے ہیں؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں بکر مرحوم کا ترکہ صرف اس کے حقیقی بھائی بہنوں میں تقسیم ہوگا، علاتی بہنوں کو اس میں سے کچھ نہیں ملے گا۔



بہ شرط صحت سوال صورت مسئولہ میں مرحوم بکر کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث۸/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ۲، ۲/ حصے مرحوم کے تین حقیقی بھائیوں میں سے ہر ایک کو اور ایک، ایک حصہ، مرحوم کی ۲/ حقیقی بہنوں میں سے ہر ایک کو ملے گا۔



ثم یرجحون بقوة القرابة أعني بہ أن ذا القرابتین أولی من ذي قرابة واحدة ذکراً کان أو أنثی لقولہ علیہ السلام: ”إن أعیان بنی الأم یتوارثون دون بنی العلات“ کالأخ لأب وأم …… أولی من الأخ لأب والأخت لأب الخ (السراجي فی المیراث، باب العصبات،ص ۲۲، ۲۳، ط: دار الکتاب دیوبند)، ومع الاخ لأب وأم للذکر مثل حظ الأنثیین یصرن بہ عصبة لاستوائھم في القرابة إلی المیت (المصدر السابق، باب معرفة الفروض ومستحقیھا، ص: ۱۰)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات