معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 175927

کیا والد کسی بیٹے کو میراث سے محروم کرسکتے ہیں؟ اگر والد ایسا کریں تو شریعت میں کیا حکم ہے؟

Published on: Jan 21, 2020

جواب # 175927

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 472-445/M=05/1441



والد کا کسی بیٹے کو بغیر شرعی وجہ کے میراث سے محروم کرنا درست نہیں۔ حدیث میں ہے: من قطع میراث وارثہ ، قطع اللہ میراثہ من الجنة یوم القیامة ۔ (مشکاة: ۲۲۶، باب الوصایا) اگر والد اپنی زندگی میں اپنی ملکیت اولاد کے درمیان تقسیم کرتا ہے تو تمام اولاد کو برابر حصہ دینا چاہئے، کسی کو بالکلیہ محروم کر دینا گناہ ہے اور اولاد میں سے کسی کو عاق کر دینا (جائیداد سے بے دخل کردینا) بھی لغو اور ناجائز فعل ہے، اگر والد انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں ترکہ چھوڑتا ہے تو بے دخل کرنے کے باوجود اولاد وارث ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات