معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 175821

مسئلہ یہ ہے کہ زید ابھی انتقال ہواہے، اور میراث میں ایک بیوی ، دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، جائیداد میں ایک گھر ممبئی میں ہے جس کی قیمت ۵۵ لاکھ ہے، ایک اور گھر ہے جس کی قیمت قیمت ۲۵ لاکھ ہے اور ایک گھر ممبئی میں جو زید کی بیوی کے نام ہے وہ ابھی بلڈر سے ملا نہیں ہے جس کی قیمت الگ بھگ ۳۰ لاکھ ہے ، فی الحال اس کا کرایہ بلڈر دیتاہے اور اس کرائے کو زید کا بڑا لڑکا رکھتاہے جس سے وہ جس گھر میں رہتاہے اس کا کریہ دیتاہے، آپ سے گذارش ہے کہ اس مسئلہ میں روشنی ڈالیں اور اللہ کے بنائے قانون کے حساب سے میراث کا بٹوارہ کریں۔

Published on: Feb 6, 2020

جواب # 175821

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 454-391/D=06/1441



زید مرحوم کے ماں باپ اگر پہلے ہی فوت ہو چکے اور ورثاء میں صرف بیوی دو (2) بیٹے دو (2) بیٹیاں ہیں تو زید مرحوم کے کل ترکہ میں سے تجہیز و تکفین کا خرچ پورا کرنے کے بعد اگر ان پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے پھر اگر انھوں نے وصیت کی ہو تو مابقی کے 1/3 میں سے وصیت کی تنفیذ کی جائے پھر جو کچھ بچے اس کے اڑتالیس (48) حصے کرکے چھ (6) حصے بیوی کو چودہ چودہ (14-14) حصے دونوں بیٹوں کو اور سات سات (7-7) حصے دونوں بیٹیوں کو ملے گا۔ زید مرحوم کا کل ترکہ اسی تناسب سے تقسیم ہوگا۔ 55 لاکھ اور 25 لاکھ والے مکان جو زید کی ملکیت تھے وہ بھی اسی تناسب سے تقسیم ہوں گے۔



البتہ جو مکان بیوی کے نام ہے اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ مکان بھی زید ہی کی ملکیت ہے بیوی کا نام کسی مصلحت سے لکھوا دیا گیا تھا تو بھی یہی حکم ہے کہ یہ مکان بھی زید کا ترکہ ہوکر مذکورہ طریقہ پر تقسیم ہوگا۔ اور اگر زید نے مکان بیوی کو دے کر مالک قابض بنا دیا تھا تو بیوی اس کی مالک ہوگی لیکن مکان جب ابھی بلڈر نے حوالہ ہی نہیں کیا تو بیوی کو قبضہ دینے اور مالک بنانے کا کیا طریقہ زید نے اختیار کیا تھا اس کی وضاحت کرکے دوبارہ حکم معلوم کرلیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات