معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 175774

میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے وہ نماز کے پابند تھے لیکن بیماری کی حالت میں دو ماہ تک نماز ادا نہیں کر سکے صرف جمعہ ادا کرتے تھے کیا اب وہ نمازیں جو رہ گئی ہیں ان کا فدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

Published on: Dec 12, 2019

جواب # 175774

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:273-228/N=4/1441



آپ کے والد مرحوم اگر آخر زندگی تک ہوش وحواس میں رہے اور بیماری یا ضعف کی وجہ سے جو نمازیں چھوٹ گئی تھیں، انہوں نے ان کے فدیے کی وصیت کی تھی تو آپ لوگوں پر مرحوم کے تہائی ترکہ سے اُن چھوٹی ہوئی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا ضروری ہے ، جن میں روزانہ کی پانچ نمازوں کے ساتھ وتر کی نماز بھی شامل ہے۔ اور اگر مرحوم نے چھوٹی ہوئی نمازوں کے فدیے کی وصیت نہیں کی تھی تو آپ لوگوں پر مرحوم کی جانب سے فدیہ کی ادائیگی واجب نہیں؛ البتہ اگر مرحوم کے سب وارث عاقل وبالغ ہوں اور سب باہمی رضامندی سے مرحوم کے ترکہ سے چھوٹی ہوئی نمازوں کا فدیہ ادا کردیں یا بعض عاقل وبالغ وارث اپنے اپنے حصے سے ادا کردیں تو یہ مرحوم کے ساتھ بڑا احسان ہوگا۔



ولو مات وعلیہ صلوات فائتة وأوصی بالکفارة یعطی لکل صلاة نصف صاع من بر کالفطرة، وکذا حکم الوتر والصوم، وإنما یعطی من ثلث مالہ الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”یعطی“: بالبناء للمجھول، أي: یعطي عنہ ولیہ أي: من لہ ولایة التصرف في مالہ بوصایة أو وراثة فیلزمہ ذلک من الثلث إن أوصی وإلا فلا یلزم الولي ذلک؛ لأنھا عبادة فلا بد من الاختیار، فإذا لم یوص فات الشرط فیسقط في حق أحکام الدنیاللتعذر… إمداد، الخ (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات