معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 175752

میرا آپ سے سوال وراثت کی تقسیم کے حوالے سے ہے ،ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، ہم دو بڑے بھائیوں نے ایک کمرشل پلاٹ خرید کر اس پر ہوٹل تعمیر کیا، تعمیر کے دوران والد صاحب سے ہم نے تیس ہزار روپے قرض لیا اور باقی کی تمام رقم اپنے پاس سے ہی لگائی، ہوٹل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہوٹل کا قبضہ انتظام ,نفع نقصان والد صاحب کی زندگی میں ہی ہم دونوں بھائیوں کے پاس رہا، مذکورہ قرض کی رقم ہم والد صاحب کی زندگی میں والد صاحب کو لوٹانا سگے لیکن والد صاحب کی فوتگی کے بعد ہم نے مذکورہ رقم ایک مدرسے میں والد صاحب کے ایصال و ثواب کے لیے دے دی۔
میرا سوال نمبر ۱ مذکورہ جائیداد کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا ہمارے باقی بہن بھائی بھی اس میں شریک ہیں یا ہم دونوں بھائی اس کے اکیلے مالک ہیں؟
میرا سوال نمبر 2 جو ہمارے ذمہ قرض تھا اس کی ادائیگی کی صحیح صورت کیا ہونی چاہیے تھی؟

Published on: Jan 12, 2020

جواب # 175752

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:422-336/L=5/1441



(۱)اگر وہ جائیداد آپ دونوں بھائیوں نے خریدی تھی اور اس پر ہوٹل بھی آپ دونوں بھائیوں ہی نے بنوایا تو اس ہوٹل کے آپ دونوں بھائی ہی تنہا مالک ہوں گے اس میں آپ کے دیگر بھائی بہنوں کا حصہ نہ ہوگا۔



(۲) قرض کی رقم کو مسجد میں دیدینا کافی نہیں تھا بلکہ اب وہ رقم ترکہ ہوگئی اور اس میں آپ کے والد کے تمام ورثاء کا حصہ ہوگا آپ لوگ بھی اس میں حصہ دار ہوں گے ۔مقامی کسی مفتی سے ورثاء کی تفصیل بتلاکر رقم کی تقسیم کروالی جائے ،اور جس وارث کے حق میں جتنی رقم آئے اتنی رقم اس کے حوالہ کردیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات