معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 175634

ایک جاننے والے پوچھا ہے کہ وہ ایک بیٹی کا والد ہے اور کوئی نارینہ اولاد نہیں ہے اس کے جائیداد میں بیٹی و بیوی کا حصہ تو ان کو چلاجائیگا باقی جائیداد وہ اپنے فوت شدہ بھائی کے اولاد کو دینا چاہتا ہے اورجو بھائی حیات ہے ان کے بچوں کو نہیں دینا چاہتا۔ اسلامی نقطہ َ نظر سے کیا اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Dec 30, 2019

جواب # 175634

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 388-309/D=05/1441



وراثت مرنے کے بعد تقسیم ہوتی ہے اگر دوست کے انتقال کے وقت ورثاء شرعی میں بیوی بیٹی دو بھائی رہے تو بیوی بیٹی کو حصہ مقررہ دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ بھائی کو مل جائے گا، بھتیجے محروم رہیں گے۔



اور اگر یہ شخص اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتا ہے تو اپنی جائیداد کا یہ تنہا مالک ہے لہٰذا جس قدر چاہے بیوی اور بیٹی کو دیدے اور حسب ضرورت اپنے لئے رکھ لے بھائی بھتیجوں میں سے جسے جس قدر دینا چاہے دیدے اور جسے چاہے نہ دے لیکن بھائی چونکہ وارث بھی ہے اسے بالکل نہ دینا محروم کر دینا درست نہیں ہے، کسی وارث کا حصہ وراثت سے ختم کر دینا سخت گناہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات