معاملات - وراثت ووصیت

india

سوال # 175633

مجھے یہ جاننا ہے کہ ہم تین بھائی ہیں ، اور ابھی دو نومبر کو میر ے والد کا انتقال ہوگیاہے، ہمارے والد کی پہلی بیوی سے ایک بیٹاہے اور ان کی پہلی بیوی کا انتقال ہوگیاہے، پھر انہوں نے دوسری شادی کی اس سے دو بیٹے ہیں ، سب تین بھائی ہیں اور دوسری بیوی حیات ہے ، اب یہ بتائیں کہ جائیداد میں کس کو کتنا حصہ ملے گا؟ سب مل کر چار ہیں، پہلے جب والد صاحب حیات تھے تو یہ فتوی آیاتھا کہ والدین اپنے گذارے کے لیے رکھ کر باقی جائیداد تین بیٹوں میں برابر تقسیم کردیں ، اب بھی یہی حساب ہے یاالگ ؟ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ والدہ ایک، بھائی تین۔

Published on: Jan 12, 2020

جواب # 175633

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 554-437/H=05/1441



اب حکم شرعی یہ ہے کہ بعد اداءِ حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہٴ شرعی والد مرحوم کا کل مالِ متروکہ چوبیس (24) حصوں پر تقسیم کرکے تین حصے والد مرحوم کی باحیات زوجہ کو اور سات سات (7-7) حصے تینوں بیٹوں کو ملیں گے۔ التخریخ



کل حصے   =           24



-------------------------



زوجہ (بیوہ) =        3



بیٹا          =           7



بیٹا          =           7



بیٹا          =           7



--------------------------------



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات