معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 175518

ایک مسئلہ کا جواب مطلوب ہے وہ یہ کہ میرے بڑے ابو (ابا کے بھائی )کا کچھ گھر موجودہے (میرے ابا اور چاچا کا) بڑے ابو کی حیات میں ہی انتقال ہو گیا اورعلاتی بھائی(چاچا) ایک موجود ہیں (خاص اولاد نہیں ہے) 1-لے پالک بیٹا اور 1-لے پالک بیٹی موجود ہیں اور بڑی امی یعنی تائی اماں موجود ہیں اور وصیت کی ہیں کہ پورا مال لے پالک کو دیدیا جائے، تو کیا اس میں ہم کو حصہ موجود ہے یا نہیں؟

Published on: Dec 30, 2019

جواب # 175518

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 403-382/M=05/1441



صورت مسئولہ میں اگر آپ کے بڑے ابو (تایا ابا) کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور آپ کی بڑی امی اور موجود چچا، پورے مال میں وصیت کے نفاذ پر راضی نہیں ہیں تو صرف تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی یعنی کُل مال کے تین حصے میں سے صرف ایک حصہ لے پالک کو دیدیا جائے گا، بقیہ دو تہائی مال کو چار برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک چوتھائی حصہ بڑی امی کو ملے گا اور بقیہ تین چوتھائی حصے، مرحوم کے علاتی بھائی یعنی آپ کے موجود، چچا کو مل جائیں گے، مذکورہ صورت میں آپ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تخریج:



کل حصے   =           4



-------------------------



زوجہ                    =           1



اخ لأب               =           3



ابن الام               =           محروم



--------------------------------



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات